ایشیاء

عالمی یومِ انسدادِ محنتِ اطفال پر؛ پوری دنیا میں 138 ملین بچے اب بھی جبری مشقت کا شکار ہیں

عالمی یومِ انسدادِ محنتِ اطفال پر؛ پوری دنیا میں 138 ملین بچے اب بھی جبری مشقت کا شکار ہیں

بچوں کی زندگی سے استحصال کا سیاہ سایہ مٹانے کی بین الاقوامی کوشوں کے باوجود، عالمی ادارۂ محنت ILO نے اعلان کیا کہ دنیا بھر میں اب بھی 138 ملین بچے جبری مشقت کی چکی میں پِس رہے ہیں۔

یہ حیران کن اعداد و شمار ترقی پذیر ممالک میں معاشی و سماجی بحرانوں کی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں۔

روزنامہ 8 صبح کی رپورٹ کے مطابق، اس بین الاقوامی ادارہ نے عالمی یومِ انسدادِ محنتِ اطفال کے موقع پر "بچوں کی مشقت کو ریڈ کارڈ” کے عنوان سے مہم شروع کی ہے اور معیاری تعلیم و منظم سماجی تحفظ کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

عالمی ادارۂ محنت کے صدر گلبرٹ ہونگبو نے زور دے کر کہا کہ بچوں کی مشقت کا اعداد و شمار "صفر” تک پہنچنا چاہیے، اور خبردار کیا کہ ان میں سے تقریباً 54 ملین بچے انتہائی خطرناک اور مشقت طلب پیشوں میں مصروف ہیں۔

اس صورتِ حال میں، غربت، طویل جنگیں اور افغانستان میں مسلسل عدمِ تحفظ نے ہزاروں افغان بچوں کو بھی مشقت طلب بازاروں کی طرف دھکیل دیا ہے؛ اگرچہ ان کی صحیح تعداد کے بارے میں کوئی واضح اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button