شیعہ مرجعیت

اصولاً اور معمول کے مطابق نجف اشرف، کربلائے معلیٰ، قم اور مشہد جیسے مقدس شہروں میں اذان کا وقت معتبر ہوتا ہے: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی

اصولاً اور معمول کے مطابق نجف اشرف، کربلائے معلیٰ، قم اور مشہد جیسے مقدس شہروں میں اذان کا وقت معتبر ہوتا ہے: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی

مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کا روزانہ علمی اجلاس 23 ذی الحجہ 1447 ہجری بروز منگل منعقد ہوا۔

اس نشست میں حسبِ سابق حاضرین کی جانب سے مختلف فقہی مسائل کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیے گئے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے نمازِ صبح کے شرعی وقت کے بارے میں فرمایا: نمازِ صبح ادا کرنے کے لئے انسان کو یقین ہونا چاہیے کہ فجرِ صادق طلوع ہو چکی ہے۔

آپ نے مزید فرمایا: اگر اذان دینے والا شخص اہلِ خبرہ ہو تو اس کی اذان حجت ہے اور اس پر عمل کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر وہ اہلِ خبرہ نہ ہو تو اتنی دیر انتظار کرنا چاہیے کہ فجرِ صادق کے طلوع ہونے کا یقین حاصل ہو جائے۔

معظم لہ نے یہ بھی تاکید فرمائی کہ اصولاً اور معمول کے مطابق نجف اشرف، کربلائے معلیٰ، قم اور مشہد جیسے مقدس شہروں میں اذان کا وقت معتبر سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ان شہروں میں متدین افراد کی بڑی تعداد آباد ہے، اور اگر اذان کا وقت درست نہ ہو تو یہ لوگ اس پر اعتراض کریں گے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے مزید فرمایا: احتیاطاً اتنا انتظار بھی کیا جا سکتا ہے کہ اذان مکمل ہو جائے، اس کے بعد انسان نماز ادا کرے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button