ولایتِ علی کے بغیر کوئی عمل بارگاہِ الٰہی میں قابلِ قبول نہیں: مولانا ظہیر عباس

ہفتۂ ولایت کی اختتامی محفل امام باڑہ جنت مآب میں منعقد، علماء و شعراء کی عقیدت بھری شرکت
لکھنو۔ مرجعِ عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی دام ظلہ العالی کے وکیل مولانا سید سیف عباس نقوی کے زیر نگرانی منعقدہ ’’ہفتۂ ولایت‘‘ کی اختتامی محفل غدیر سے مباہلہ تک کے عنوان سے امام باڑہ جنت مآب میں نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوئی۔ محفل کا آغاز شب میں 9 بجے ہوا جس میں علماء، ذاکرین، شعراء اور محبانِ اہل بیت علیہم السلام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اختتامی محفل سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا ظہیر عباس استاد جامعہ ناظمیہ لکھنو نے ولایتِ اہل بیت علیہم السلام کی اہمیت و عظمت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسلام کی حقیقی روح اور تمام عبادات کی قبولیت کا دار و مدار ولایتِ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام پر ہے۔ انہوں نے جناب زرارہ بن اعین اور امام محمد باقر علیہ السلام کے درمیان ہونے والی معروف روایت کا حوالہ دیتے ہوئے بیان کیا کہ امامؑ نے اسلام کی بنیاد پانچ ارکان؛ نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج اور ولایت پر قرار دی ہے، اور ان میں ولایت کو سب سے افضل و برتر رکن قرار دیا کیونکہ یہی تمام اعمال کی کنجی اور قبولیت کا ذریعہ ہے۔
مولانا ظہیر عباس نے اپنے خطاب میں نہایت مؤثر مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص ایک عظیم الشان محل تعمیر کرے، اسے ہر طرح کی نعمتوں اور قیمتی اشیاء سے آراستہ کر دے، لیکن اس کے دروازے پر لگا تالا کھولنے کے لئے چابی موجود نہ ہو تو وہ تمام تر شان و شوکت بے فائدہ ثابت ہوگی۔ اسی طرح نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ بظاہر عظیم عبادات ہیں، مگر ان کی قبولیت کی چابی ولایتِ محمد و آلِ محمد علیہم السلام ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انسان کثرتِ عبادت سے اپنی پیشانیوں پر محرابیں تو بنا سکتا ہے، لیکن جب تک اس کے پاس میدانِ غدیر میں عطا ہونے والی ولایتِ علی علیہ السلام کی چابی موجود نہیں ہوگی، جنت کے دروازے اس کے لئے نہیں کھلیں گے۔
محفل میں اس سے قبل مختلف علماء، خطباء اور واعظین نے فضائلِ اہل بیت علیہم السلام بیان کئے جبکہ شعرائے کرام نے منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کئے۔
واضح رہے کہ یہ محافل خدیجہ ٹی وی، حسینی چینل اور دیگر ذرائع ابلاغ سے براہ راست نشر ہوئیں۔




