
افغانستان میں پاکستانی فوج کے فضائی حملوں میں 13 افراد جاں بحق
افغانستان کی وزارتِ دفاع اور طالبان حکام نے اطلاع دی ہے کہ پاکستانی فوج کے جنگی طیاروں کی جانب سے سرحدی علاقوں میں اچانک کئے گئے فضائی حملوں کے نتیجے میں درجنوں افغان شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
اس اقدام کے باعث دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جاری کشیدگی اور سفارتی بحران میں مزید شدت آنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی "راشا ٹودی” کے مطابق، طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی جنگی طیاروں نے افغانستان کے صوبوں خوست، کنڑ اور پکتیکا میں حملے کیے۔ ان حملوں میں کم از کم 13 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 11 بچے، ایک خاتون اور ایک معمر شخص شامل ہیں، جبکہ 14 دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اسلام آباد نے تاحال سرکاری طور پر ان حملوں کی تصدیق نہیں کی ہے، تاہم پاکستان اس سے قبل متعدد بار کابل پر یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کے جنگجوؤں کو پناہ فراہم کر رہا ہے، جو پاکستان کے اندر مہلک حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیاں کرتے ہیں۔ طالبان حکومت نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے۔




