ولایت تمام عبادات کی قبولیت کی بنیاد ہے: مولانا سید روح ظفر رضوی
ولایت تمام عبادات کی قبولیت کی بنیاد ہے: مولانا سید روح ظفر رضوی
ممبئی: عیدِ سعید غدیر (5 جون 2026) کے موقع پر خوجہ شیعہ اثناء عشری جامع مسجد، پالا گلی میں نمازِ جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید روح ظفر رضوی کی اقتداء میں ادا کی گئی۔
نمازِ جمعہ کے خطبے میں مولانا سید روح ظفر رضوی نے عیدِ غدیر کی عظمت، ولایتِ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام اور انسانی ہدایت میں غدیر کے بنیادی کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ تقویٰ الٰہی انسان کی اولین ذمہ داری ہے اور عیدِ غدیر کا حقیقی پیغام بھی یہی ہے کہ انسان اپنی زندگی میں حلال و حرام کا لحاظ رکھتے ہوئے امام المتقین حضرت علی علیہ السلام کے راستے پر گامزن رہے۔
مولانا سید روح ظفررضوی نے کہا کہ غدیر محض ایک تاریخی واقعہ یا صرف حضرت علی علیہ السلام کی محبت کے اعلان کا نام نہیں، بلکہ یہ انسانیت کی سب سے بڑی ضرورت، یعنی ہدایتِ الٰہی کے مکمل ہونے کا دن ہے۔
انہوں نے کہا کہ خداوندِ عالم نے انسانوں کی ہدایت کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام مبعوث فرمائے اور غدیر کے دن ولایت و امامت کے اعلان کے ذریعے دین کو کامل اور اپنی نعمت کو تمام کر دیا۔ ان کے مطابق اگر انسان کو دنیا کی تمام نعمتیں حاصل ہو جائیں لیکن اسے صحیح رہنمائی اور ہدایت میسر نہ ہو تو وہ حقیقی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا، جبکہ غدیر انسان کو وہ الٰہی رہنمائی فراہم کرتی ہے جو اسے دنیا و آخرت کی سعادت سے ہمکنار کرتی ہے۔
مولانا سید روح ظفر رضوی نے کہا کہ غدیر درحقیقت قرآنِ مجید کے حقیقی مفسر، معلم اور مبین کے تعارف کا دن ہے۔ اسی روز رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو اپنا جانشین مقرر کرکے امت کو ایسا رہبر عطا فرمایا جو قرآن کی صحیح تعلیمات کو قیامت تک محفوظ رکھنے والا ہے۔
انہوں نے غدیر کو ’’انسانِ کامل‘‘ کے تسلسل اور رحمتِ الٰہی کے مکمل ظہور کا دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ خداوندِ عالم نے اپنے بندوں کو لاوارث نہیں چھوڑا بلکہ ولایت و امامت کا دائمی سلسلہ قائم فرمایا۔
مولانا سید روح ظفر رضوی نے کہا کہ حقیقی غدیری وہ ہے جو نہ صرف اپنے حقوق کا خیال رکھے بلکہ دوسروں کے حقوق کی حفاظت بھی کرے۔ آج کے دور میں جب دنیا ظلم و ناانصافی سے دوچار ہے، علوی تعلیمات اور غدیری فکر ہی انسانیت کو حقیقی عدل و انصاف فراہم کر سکتی ہے۔
مولانا سید روح ظفر رضوی نے مزید کہا کہ ولایت تمام عبادات کی قبولیت کی بنیاد ہے۔ ائمہ اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات کے مطابق نماز، روزہ، حج اور دیگر اعمال کی قبولیت ولایت سے وابستہ ہے۔ انہوں نے حاضرین کو غدیر کے پیغام پر غور و فکر کرنے، تاریخِ اسلام کا مطالعہ کرنے اور اعلانِ غدیر کی حقیقت کو سمجھنے کی دعوت دی۔
انہوں نے کہا کہ عیدِ غدیر کے بہترین اعمال میں اللہ کے بندوں کو خوش کرنا، ضرورت مندوں کی مدد کرنا اور معاشرے میں محبت، اخوت اور ہمدردی کو فروغ دینا شامل ہے۔ اس موقع پر انہوں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عیدِ غدیر کے دن ایک درہم صدقہ کرنا عام دنوں میں دو ہزار درہم خرچ کرنے کے برابر اجر و ثواب رکھتا ہے۔




