خلافتِ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے اعلان کی اہمیت
از تبرکات مرجع راحل آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد حسینی شیرازی رحمۃ اللہ علیہ

﴿يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ ۖ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ﴾
“اے رسول! جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے، اسے پہنچا دیجیے، اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے اللہ کا پیغام ہی نہیں پہنچایا۔”
اس مبارک آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ اگر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کی خلافت کا اعلان نہ کرتے تو گویا آپؐ کی سابقہ تمام تبلیغ بے اثر ہوجاتی۔ جیسے کسی گھر میں چراغ تو لگا دیے جائیں مگر بجلی نہ ہو، تو ان چراغوں کا کوئی فائدہ نہیں رہتا۔
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے 23 برس تک دینِ اسلام کی تبلیغ اور ہدایت کے لئے سخت محنت فرمائی، اور اپنی زندگی کے آخری دور میں، یعنی 18 ذی الحجہ کے دن، غدیر کے مقام پر حضرت علیؑ کی خلافت کو باقاعدہ طور پر لوگوں تک پہنچایا۔ اس کے تقریباً دو ماہ بعد ماہِ صفر میں آپؐ دنیا سے رحلت فرما گئے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ واقعۂ غدیر کا اعلان نہ کرتے تو ان کی تمام جدوجہد پر خطِ بطلان پھر جاتا۔ یہ بات سورۂ مائدہ کی آیت 67 سے واضح ہوتی ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خلافت و ولایت کا اعلان اللہ کے نزدیک انتہائی اہم اور عظیم مسئلہ تھا۔
علیؑ؛ تاریخ کی سب سے زیادہ مظلوم و ناشناختہ شخصیت، آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد شیرازی رحمۃ اللہ علیہ




