بھوج شالا-کمال مولا مسجد کیس: ہائی کورٹ فیصلے کے خلاف مسلم فریق سپریم کورٹ پہنچ گیا
بھوج شالا-کمال مولا مسجد کیس: ہائی کورٹ فیصلے کے خلاف مسلم فریق سپریم کورٹ پہنچ گیا
مدھیہ پردیش کے دھار میں واقع بھوج شالا اور کمال مولا مسجد تنازعہ کیس میں مسلم فریق نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ مسلم فریق کی جانب سے اسپیشل لیو پٹیشن (SLP) دائر کی گئی، جس پر آج سماعت متوقع ہے۔
ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے اپنے فیصلے میں بھوج شالا احاطے کو دیوی سرسوتی کے مندر سے تعبیر کرتے ہوئے مسلم کمیونٹی کو جمعہ کی نماز کی اجازت دینے والے 2003 کے اے ایس آئی حکم کو منسوخ کر دیا تھا۔ عدالت نے مسجد کے لئے متبادل جگہ تلاش کرنے کی بھی تجویز دی تھی۔
مسلم فریق کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ عبادت گاہوں کے ایکٹ 1991 اور تاریخی شواہد کے خلاف ہے، جبکہ ہندو فریق نے سپریم کورٹ میں پہلے ہی کیویٹ درخواست دائر کر رکھی ہے تاکہ یکطرفہ حکم جاری نہ ہو۔ مسلم نمائندوں کے مطابق، کمال مولا مسجد میں تقریباً 700 برس سے نماز جمعہ ادا کی جاتی رہی ہے اور وہ قانونی جنگ آئینی دائرے میں رہ کر جاری رکھیں گے۔




