امریکہ میں سین ڈیاگو کے اسلامی مرکز پر مہلک حملے کے بعد اسلامی اداروں کی سیاست دانوں اور میڈیا کے کردار پر تشویش
امریکہ میں سین ڈیاگو کے اسلامی مرکز پر مہلک حملے کے بعد اسلامی اداروں کی سیاست دانوں اور میڈیا کے کردار پر تشویش
سین ڈیاگو کے اسلامی مرکز پر ہونے والے مہلک حملے کے بعد امریکہ اور آسٹریلیا کے اسلامی اداروں اور مسلمانوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں نے مغربی سیاسی اور میڈیا فضا میں بڑھتی ہوئی اسلام دشمنی اور مخالفِ اسلام بیانیے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی ریپبلکن سیاست دانوں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف سینکڑوں پیغامات اور بیانات کی رپورٹس بھی منظر عام پر آئی ہیں، جس کے بعد اسلامی مراکز کی سلامتی کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
اس موضوع کا جائزہ لینے والی میرے ساتھی کی رپورٹ ملاحظہ کیجیے:
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سین ڈیاگو میں اسلامی مرکز پر ہونے والے حالیہ مہلک حملے نے ایک بار پھر امریکہ میں مسلمانوں کی صورتحال اور بڑھتی ہوئی اسلام دشمن فضا کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
اس واقعے پر اسلامی اداروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا، جبکہ متعدد تجزیہ نگاروں نے اسے امریکی سیاسی اور میڈیا ماحول میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیے کے پھیلاؤ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
حقوقِ مدنی اور اسلامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک، دھمکیوں اور زبانی حملوں سے متعلق شکایات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اسی طرح «کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز» کی رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں اسلام دشمنی اور مسلمانوں کے خلاف امتیازی رویوں کے واقعات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب منظم نفرت پر تحقیق کرنے والے ایک مطالعاتی مرکز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی ریپبلکن جماعت سے وابستہ درجنوں سیاست دانوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران سوشل میڈیا پر ایک ہزار سے زائد اسلام مخالف پیغامات اور پوسٹس شائع کیں۔
ان پیغامات میں مسلمانوں کو “امریکی شناخت” کے لیے خطرہ قرار دیا گیا جبکہ اسلامی معاشروں کے خلاف مختلف سازشی نظریات کو بھی فروغ دیا گیا۔
امریکی میڈیا نے بعض ریپبلکن سیاسی شخصیات کے متنازع بیانات کو بھی نمایاں کیا، جن پر انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی۔
سین ڈیاگو حملے کے ردعمل میں «یونین آف مسلمز آف امریکا» نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے — جسے اسلامی میڈیا نے وسیع پیمانے پر نشر کیا — امریکہ بھر میں مساجد، اسلامی مراکز اور دینی مدارس کے اطراف فوری سکیورٹی اقدامات بڑھانے کا مطالبہ کیا۔
اس ادارے نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کے ماحول کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اسی طرح «شیعہ مسلم کونسل آف آسٹریلیا» نے اپنے بیان میں خبردار کیا کہ اسلام دشمنی صرف انتہاپسند گروہوں کی کارروائیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ بعض میڈیا ادارے اور سیاست دان بھی غیر ذمہ دارانہ زبان استعمال کر کے اس فضا کو مزید شدت دے رہے ہیں۔
کونسل نے مغربی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ جس طرح وہ دیگر اقسام کی انتہاپسندی کے خلاف اقدامات کرتی ہیں، اسی طرح مسلمانوں اور ان کی عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے بھی فوری اور سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔




