صحت اور زندگی

خراٹے اور نیند میں سانس کی تکلیف؛ سانس کی نالیوں کے مسائل کے پوشیدہ نتائج کے بارے میں ڈاکٹروں کی تنبیہ

خراٹے اور نیند میں سانس کی تکلیف؛ سانس کی نالیوں کے مسائل کے پوشیدہ نتائج کے بارے میں ڈاکٹروں کی تنبیہ

خراٹے، جنہیں اکثر لوگ نیند کے دوران محض ایک تکلیف دہ آواز سمجھتے ہیں، درحقیقت سانس کے فطری بہاؤ میں خلل کی علامت ہو سکتے ہیں۔

ایک ایسا مسئلہ جو ماہرین کے بقول بعض صورتوں میں سانس کی بیماریوں، زائد وزن اور حتیٰ کہ خطرناک نیند کی اختلالات سے براہِ راست تعلق رکھتا ہے۔

اس سلسلے میں اس رپورٹ کو ملاحظہ فرمائیں:

خراٹے دنیا بھر میں نیند سے متعلق سب سے عام مسائل میں شمار ہوتے ہیں۔

یہ ایسا مظہر ہے جو نیند کے معیار میں خلل پیدا کرنے کے علاوہ جسمانی اور تنفسی پوشیدہ مسائل کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔

صحت کے شعبے کے ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ مسلسل خراٹوں کو نظرانداز کرنا مستقبل میں سنگین بیماریوں کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

یورونیوز کی رپورٹ کے مطابق خراٹے اس وقت آتے ہیں جب نیند کے دوران ہوا کا راستہ جزوی طور پر مسدود ہو جائے اور ہوا کا بہاؤ گلے کے ؤتکوں، کوّے یا نرم تالو میں ارتعاش پیدا کرے۔

یہی ارتعاش وہ آواز پیدا کرتا ہے جسے خراٹا کہا جاتا ہے۔

طبّی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مسئلے کے پیدا ہونے میں مختلف عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں۔

ناک کی بندش، ناک کی پٹی کا ٹیڑھا ہونا، زائد وزن، بڑھتی عمر اور گلے کے عضلات کا ڈھیلا پڑ جانا خراٹوں کی اہم ترین وجوہات قرار دی گئی ہیں۔

اس کے علاوہ تمباکو نوشی، شدید تھکاوٹ اور پیٹھ کے بل لیٹنا بھی خراٹوں کا امکان بڑھا سکتا ہے۔

طبّی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بعض افراد میں خراٹے "نیند کی بے ہوشی” یعنی Sleep Apnea کی علامت ہو سکتے ہیں؛ یہ وہ بیماری ہے جس میں نیند کے دوران چند ثانیوں کے لیے سانس رک جاتی ہے۔

ڈاکٹر خبردار کرتے ہیں کہ یہ اختلال بلند فشارِ خون، دل کی بیماریوں، دائمی تھکاوٹ اور توجہ میں کمی کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

بعض تحقیقات سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ جو افراد مسلسل شدید خراٹوں میں مبتلا رہتے ہیں وہ بے خوابی، رات کے آرام کے معیار میں کمی اور دن کے وقت اونگھنے کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔

یہ صورتِ حال طویل مدت میں ملازمتی کارکردگی، ذہنی توجہ اور حتیٰ کہ خانگی تعلقات پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ وزن میں کمی، سونے کی وضع کی اصلاح، ناک اور سینوس کے مسائل کا علاج اور تمباکو نوشی سے پرہیز خراٹوں میں کمی کے لیے مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

شدید صورتوں میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا اور نیند کے معائنے کروانا ضروری سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نیند کے معیار پر توجہ دینا اور تنفسی اختلالات کا علاج، افراد کی جسمانی اور ذہنی صحت کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور مسلسل خراٹوں کو معمول کی بات نہیں سمجھنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button