خبریںسعودی عرب

فرانس میں سعودی ولی عہد کے خلاف جمال خاشقجی کے قتل کا مقدمہ

انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے دائر شکایت منظور ہونے کے بعد، فرانس میں ایک تحقیقاتی جج کو 2018ء میں سعودی ناقد صحافی جمال خاشقجی کے قتل اور جبری گمشدگی سے متعلق مقدمے کی تحقیقات سونپی گئی ہیں۔

اس اقدام نے ایک بار پھر اس معاملے کے بین الاقوامی پہلوؤں کی طرف توجہ مبذول کر دی ہے۔

ہمارے ساتھی رپورٹر نے اپنی رپورٹ میں اس موضوع کا جائزہ لیا ہے، جسے ہم ساتھ دیکھتے ہیں:

ایک نئی قانونی پیش رفت میں، فرانسیسی عدالتی نظام نے اس شکایت پر کارروائی شروع کر دی ہے جس میں سعودی ناقد صحافی جمال خاشقجی پر تشدد اور ان کی جبری گمشدگی کے الزامات اٹھائے گئے ہیں۔ یہ معاملہ 2018ء میں استنبول میں سعودی قونصل خانے میں پیش آنے والے متنازع واقعہ سے متعلق ہے۔

یہ مقدمہ کئی برسوں تک عدالتی اور قانونی اداروں کے درمیان دائرۂ اختیار کے اختلافات کا شکار رہا، تاہم اب یہ باقاعدہ عدالتی تحقیقات کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

ریڈیو فرانس انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق، فرانس کے قومی انسدادِ دہشت گردی استغاثہ نے تصدیق کی ہے کہ انسانیت کے خلاف جرائم کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے ایک تحقیقاتی جج کو اس شکایت کی سماعت سونپی گئی ہے، جو دو انسانی حقوق کی تنظیموں اور آزادیٔ صحافت کے لیے سرگرم ایک ادارے کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

یہ شکایت 2022ء میں سعودی ولی عہد کے دورۂ فرانس کے دوران درج کی گئی تھی، بعد میں ایک اور بین الاقوامی تنظیم بھی اس میں شامل ہو گئی۔

فرانس 24 کی رپورٹ کے مطابق، یہ مقدمہ سعودی ناقد صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق ہے، جو استنبول میں اپنے ملک کے قونصل خانے میں پیش آیا تھا۔

میڈیا رپورٹس میں انہیں سعودی عرب کی داخلی پالیسیوں کے ناقد کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ان رپورٹس میں بعض بین الاقوامی انٹیلی جنس اداروں کے ان بیانات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جن میں اس واقعہ کی براہِ راست ذمہ داری سعودی اعلیٰ حکام پر عائد کی گئی تھی۔

شکایت دائر ہونے کے بعد، فرانسیسی اپیل کورٹ نے مدعیان کی درخواست قبول کرتے ہوئے عدالتی کارروائی کی راہ ہموار کر دی۔

اس اقدام کا مطلب یہ ہے کہ جمال خاشقجی کے خلاف مبینہ تشدد اور جبری گمشدگی سمیت اٹھائے گئے الزامات کی باضابطہ تحقیقات شروع ہو گئی ہیں۔

دوسری جانب، انسدادِ دہشت گردی استغاثہ نے عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس نوعیت کی شکایات کی سماعت کے قانونی دائرۂ اختیار سے متعلق اپنی سابقہ قانونی تشریح برقرار رکھے گا۔

اس مقدمہ میں شامل انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس کیس کا آغاز سرحد پار جرائم کے مقدمات میں استثناء اور بے احتسابی کے خلاف جدوجہد میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، اور اس سے جمال خاشقجی کے قتل کے مقدمے پر ایک بار پھر عالمی توجہ مرکوز ہوئی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button