افریقہ

شمال مشرقی نائجیریہ کے ایک اسکول پر بوکو حرام کے سنی شدت پسندوں کے حملے میں درجنوں طلبہ اغوا

شمال مشرقی نائجیریہ کے ایک اسکول پر بوکو حرام کے سنی شدت پسندوں کے حملے میں درجنوں طلبہ اغوا

شمال مشرقی نائجیریہ میں ایک اسکول پر بوکو حرام کے سنی شدت پسند دہشت گرد گروہ کے حملے نے اس افریقی ملک میں تعلیمی مراکز کی سلامتی کے حوالے سے شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

اس حملے کے دوران، جو ریاست بورنو کے علاقے آسکیرا-اوبا میں پیش آیا، 42 طلبہ کو کلاسوں میں موجودگی کے دوران اغوا کر لیا گیا، جس کے بعد ان کے اہل خانہ شدید خوف و اضطراب میں مبتلا ہیں۔

خبر رساں ایجنسی آناتولی کے مطابق، ریاست بورنو کے ایک سینیٹر نے بتایا کہ 15 مئی کی صبح یہ طلبہ درس و تدریس میں مشغول تھے کہ بوکو حرام سے وابستہ مسلح افراد نے اسکول پر دھاوا بول دیا اور طلبہ کو اپنے ساتھ لے گئے۔

انہوں نے اس واقعہ کو نہایت ہولناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے خاندان شدید ذہنی دباؤ اور نفسیاتی اذیت کا سامنا کر رہے ہیں۔

نائجیریہ کے ذرائع ابلاغ نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ بوکو حرام کے سنی شدت پسند گروہ کی مسلسل کارروائیوں کے باعث گزشتہ برسوں میں متعدد اسکول بند ہو چکے ہیں اور ملک کے شمال مشرقی علاقوں میں عدمِ تحفظ میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ شدت پسند گروہ 2000 کی دہائی کے آغاز سے سرگرم ہے اور 2009 سے عام شہریوں کے خلاف وسیع پیمانے پر حملے کر رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، بوکو حرام کے حملوں کا دائرہ صرف نائجیریہ تک محدود نہیں رہا بلکہ کیمرون، چاڈ اور نائجر تک پھیل چکا ہے، جبکہ جھیل چاڈ کے خطے میں ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button