افریقہخبریں

سوڈان میں تین سالہ جنگ کے ساتھ ساتھ قحط کا بحران

جب کہ سوڈان کی خانہ جنگی اپنے تیسرے سال میں داخل ہو چکی ہے، نئی رپورٹیں اس ملک میں انسانی بحران کے تسلسل اور شدت میں اضافے کی گواہی دے رہی ہیں۔

ایک ایسا بحران جس نے لاکھوں افراد کو شدید غذائی قلت، وسیع پیمانے پر بے گھری اور قحط کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔

اس سلسلے میں ایک رپورٹ پر توجہ دیں:

سوڈان میں حریف مسلح افواج کے درمیان جھڑپوں کے تسلسل کے نتیجے میں اس ملک کی انسانی صورتحال دنیا کے سنگین ترین غذائی بحرانوں میں سے ایک بن چکی ہے۔

تازہ ترین اندازوں کے مطابق آبادی کا ایک بڑا حصہ شدید غذائی قلت اور غذائی عدم تحفظ سے دوچار ہے، اور جنگ کی رفتار اوضاع کی ابتری میں مزید اضافہ کرتی جا رہی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک رپورٹ میں بین الاقوامی ناظر اداروں کے حوالے سے اور ”یکپارچہ غذائی تحفظ درجہ بندی کے نظام” (IPC) کے اعداد و شمار کی بنیاد پر اعلان کیا ہے کہ سوڈان میں تقریباً ایک کروڑ ساڑھے انیس لاکھ افراد شدید غذائی قلت سے دوچار ہیں۔

یہ تعداد ملک کی کل آبادی کے چالیس فی صد سے زائد پر مشتمل ہے۔

اس رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اگرچہ یہ تعداد پچھلے تخمینے کے مقابلے میں قدرے کم ہوئی ہے، تاہم بحران کی سطح ابھی بھی انتہائی تشویشناک ہے۔

این پی سی کے تجزیے کے مطابق شمالی دارفور، جنوبی دارفور اور جنوبی کردفان کی ریاستوں میں کم از کم چودہ علاقے قحط کے خطرے سے دوچار ہیں اور تقریباً ایک لاکھ پینتیس ہزار افراد غذائی اعتبار سے ”انتہائی تباہ کن” صورتحال میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے اس ذیلی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ جھڑپوں کا تسلسل اور امدادی راستوں کی ناکہ بندی بحران کی شدت میں اضافے کا خطرہ بڑھا رہی ہے۔

اسی کے ساتھ اقوامِ متحدہ کے دفترِ حقوقِ انسانی نے بھی اعلان کیا ہے کہ اس جنگ میں ڈرونز کا وسیع پیمانے پر استعمال شہری جانی نقصانات میں اضافے کی ایک اہم وجہ بن چکا ہے، اور رواں عیسوی سال کے آغاز سے اب تک کم از کم آٹھ سو اسی شہری فضائی اور ڈرون حملوں کی نذر ہو چکے ہیں۔

اس رپورٹ کے ایک اور حصے میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً آٹھ لاکھ پچیس ہزار بچے شدید غذائی کمی کا شکار ہیں۔

اس کے علاوہ تقریباً ایک کروڑ چالیس لاکھ افراد کی بے گھری، بارش کے موسم کا آغاز، اور اجناس و ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

ماہرین نے خطے کے بحرانوں کے عالمی اجناس کی قیمتوں پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں بھی خبردار کیا ہے۔

یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو آنے والے مہینوں میں فصلوں کی کٹائی کے امکانات کو مزید کمزور کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button