تاریخ اسلاممقدس مقامات اور روضے

23 ذی القعدہ؛ یومِ شہادت و زیارتِ مخصوصۂ امام علی رضا علیہ السلام

23 ذی القعدہ کا دن تاریخِ اسلام کے اُن دردناک اور روح فرسا ایّام میں سے ہے جب آسمانِ امامت کا آٹھواں آفتاب غربت، مظلومیت اور زہرِ جفا کے سائے میں طوس کی سرزمین پر غروب ہوا۔

یہ صرف ایک امام کی شہادت کا دن نہیں بلکہ مدینہ سے خراسان تک پھیلی ہوئی اُس دردناک داستان کا عنوان ہے جس کے ہر باب میں صبر، غربت، عبادت، علم، حلم اور مظلومیت کی عظیم تصویر جھلکتی ہے۔

مدینہ کی گلیاں آج بھی شاید اُس لمحے کو یاد کرتی ہوں گی جب فرزندِ رسول، روضۂ اقدس سے لپٹ لپٹ کر رخصت ہو رہے تھے۔

ایک ایسا مسافر جسے معلوم تھا کہ اب واپسی نہیں ہوگی۔ یہ سفر اقتدار کا نہیں، بلکہ شہادت کا سفر تھا۔ یہ دعوتِ حکومت نہیں بلکہ قیدِ غربت کا پروانہ تھا۔

مامون نے بظاہر عزت و احترام کا لبادہ اوڑھا، مگر درحقیقت وہ ولایت کے چراغ کو سیاست کے اندھیروں میں خاموش کرنا چاہتا تھا۔

مگر امام علی رضا علیہ السلام نے اپنی خاموش مظلومیت سے بھی حق کا پرچم بلند رکھا۔ مرو کے درباروں میں جب علم و حکمت کے چرچے ہوئے تو ہر مناظرہ، ہر مجلس اور ہر سوال کے بعد دنیا نے دیکھا کہ عالم آلِ محمد کے سامنے بڑے بڑے فلسفی اور دانشور خاموش ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ امام کی ذات علمِ الٰہی کے زندہ معجزے کی حیثیت رکھتی تھی۔

پھر وہ وقت آیا جب زہر آلود انگوروں کے ذریعہ بنی عباس کی عداوت نے اپنا آخری وار کیا۔ طوس کی سرزمین خاموش تھی، مگر فضاؤں میں ایک عجیب کہرام برپا تھا۔ ایک غریب امام، وطن سے دور، اپنے عزیزوں سے جدا، زہر کے درد سے تڑپتے ہوئے اپنے ربّ سے ملاقات کے لئے آمادہ تھے۔ نہ مدینہ کی گلیاں تھیں، نہ نانا رسولِ خدا کا روضہ، نہ بہنوں اور فرزندوں کا حلقہ… صرف غربت تھی، خاموشی تھی اور ایک مظلوم امامؑ کی آخری سانسیں تھیں۔

23 ذی القعدہ کو “یومِ زیارتِ مخصوصۂ امام رضا علیہ السلام” بھی کہا جاتا ہے۔

عاشقانِ اہلِ بیت اس دن دور و نزدیک سے مشہد مقدس کا رخ کرتے ہیں، اور جو حاضری سے محروم ہوں وہ دل کی آنکھوں سے طوس کی جانب متوجہ ہو کر سلام عرض کرتے ہیں:

السلام علیک یا غریب الغرباء
السلام علیک یا معین الضعفاء
السلام علیک یا شمس الشموس

یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اہلِ بیت علیہم السلام نے دین کی بقا کے لئے نہ صرف تلواروں کا سامنا کیا بلکہ قید، جلاوطنی، زہر اور غربت کی اذیتیں بھی برداشت کیں۔ امام رضا علیہ السلام کی زندگی صبر و رضا کا وہ روشن مینار ہے جو ہر دور کے مظلوم انسان کو حوصلہ، یقین اور خدا پر بھروسے کا درس دیتا ہے۔

آج بھی مشہد مقدس میں سنہری گنبد کے سائے تلے لاکھوں دل سکون پاتے ہیں۔ کوئی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا، کوئی مایوس نہیں جاتا۔ غریب الغرباءؑ کا در آج بھی محبت، کرم، شفاعت اور امید کا مرکز ہے۔

خداوندِ عالم ہمیں امامِ رؤوف علیہ السلام کی حقیقی معرفت، ان کی سیرت پر عمل اور ان کی شفاعت نصیب فرمائے، اور 23 ذی القعدہ کے اس پُرسوز دن میں ہمیں اُن کے غم میں شریک ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔

السلام علیک یا علی بن موسیٰ الرضا المرتضیٰ ۔۔۔۔۔۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button