برطانیہ کے مقامی انتخابات کے نتائج میں دائیں بازو کی جماعت ’’ریفارم یوکے‘‘ کی نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔
برطانیہ کے مقامی انتخابات کے نتائج میں دائیں بازو کی جماعت ’’ریفارم یوکے‘‘ کی نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔
یہ جماعت اسلام مخالف اور مہاجر مخالف مؤقف کے حوالے سے معروف سمجھی جاتی ہے، اور اس کی کامیابی کے بعد برطانیہ میں مسلمانوں کی سماجی سلامتی اور مختلف مذاہب کے پُرامن بقائے باہمی کے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
آئیے اس موضوع پر ہمارے ساتھی کی رپورٹ ملاحظہ کرتے ہیں:
برطانیہ کے حالیہ مقامی انتخابات نے اس ملک کی سیاسی فضا میں غیر معمولی تبدیلیاں پیدا کر دی ہیں۔
نائجل فاریج کی قیادت میں دائیں بازو کی جماعت ’’ریفارم یوکے‘‘ سینکڑوں مقامی کونسل نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی اور اُن علاقوں میں بھی اثر و رسوخ قائم کر لیا جو برسوں سے روایتی جماعتوں کے زیرِ اثر تھے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اس جماعت پر بارہا اسلام مخالف بیانیے کو فروغ دینے،
مہاجرین کے خلاف اشتعال انگیزی کرنے
اور مذہبی نفرت کو ہوا دینے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔
شبکہ ’’مسلم نیٹ ورک ٹی وی‘‘ کے مطابق، ریفارم یوکے نے انگلینڈ میں مقامی انتخابات کے دوران 500 سے زائد کونسل نشستیں حاصل کیں اور کئی اہم کونسلوں کا کنٹرول بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
اس میڈیا رپورٹ کے مطابق، اس جماعت کے متعدد امیدواروں نے سوشل میڈیا پر اسلام مخالف مواد شائع کیا، جبکہ بعض نے اسلام کو توہین آمیز الفاظ میں بیان کیا۔
رپورٹ کے مطابق نائجل فاریج کا مسلمانوں کے خلاف بیانات دینے کا ایک طویل ریکارڈ موجود ہے،
اور وہ ماضی میں مسلمانوں کو برطانیہ میں ’’پانچواں ستون‘‘ بھی قرار دے چکے ہیں۔
اس بیان پر انسانی حقوق کے کارکنوں اور اسلامی اداروں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا تھا۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جماعت معاشی خدشات اور ہجرت کے مسئلے کو استعمال کرتے ہوئے اسلام مخالف جذبات کو ووٹ حاصل کرنے کے ایک ہتھیار کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
’’مسلم نیٹ ورک ٹی وی‘‘ نے مزید رپورٹ کیا ہے کہ برطانیہ کی روایتی جماعتوں، جن میں لیبر پارٹی اور کنزرویٹو پارٹی شامل ہیں، کے ووٹوں کا ایک بڑا حصہ اس شدت پسند جماعت کے حق میں منتقل ہوا ہے۔
برطانیہ کے بہت سے مسلمان اس بات پر تشویش میں مبتلا ہیں کہ اسلام کے خلاف نفرت انگیز بیانیے کو معمول بنائے جانے سے نسل پرستانہ حملوں اور مذہبی اقلیتوں پر سماجی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اسلامی کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ انتہاپسند اور مہاجر مخالف تحریکوں کی مسلسل بڑھتی ہوئی مقبولیت برطانیہ کی کثیرالثقافتی شناخت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے اور وہاں مقیم لاکھوں مسلمانوں کی نفسیاتی اور سماجی سلامتی کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔



