
دھماکوں کا ملبہ انسانی صحت اور ماحولیات کے لئے سنگین خطرہ
مشرقِ وسطیٰ میں چالیس روزہ جنگی کشیدگی کے خاتمے کے بعد بھی ایران کے متاثرہ علاقوں میں دھماکوں اور تباہی کے نتیجے میں جمع ہونے والا وسیع ملبہ بدستور موجود ہے۔
ماہرین نے اس کے انسانی صحت اور ماحولیات پر طویل المدتی اثرات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
آئیے اس حوالے سے میرے ساتھی رپورٹر کی تیار کردہ رپورٹ ملاحظہ کرتے ہیں:
ایران کے تباہ حال اور جنگ سے متاثرہ علاقوں میں چالیس روزہ جنگ کے بعد باقی رہ جانے والا ملبہ اور جنگی فضلہ اب بھی ایک سنگین چیلنج بنا ہوا ہے۔
یہ صورتحال عوامی صحت اور ماحولیات پر اس کے خطرناک اثرات کے باعث تشویش میں اضافہ کر رہی ہے۔
میڈیا ایجنسی “ایندیپینڈنٹ فارسی” کی رپورٹ کے مطابق تقریباً ایک کروڑ ٹن جنگی فضلہ، جس میں عمارتوں کا ملبہ، جلنے والے مواد اور دھماکوں کی باقیات شامل ہیں، متاثرہ علاقوں میں موجود ہے، اور اس کی صفائی و انتظام جنگ کے بعد کے مرحلے میں ایک پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فضائی حملوں اور شہری انفراسٹرکچر کی تباہی کے دوران مقامی انتظامیہ نے اہم راستوں کو کھلا رکھنے اور ہنگامی بنیادوں پر سڑکوں کی صفائی کی کوشش کی تاکہ شہری خدمات مکمل طور پر مفلوج نہ ہوں، لیکن ملبے کی وسیع مقدار نے بحالی اور نظم و نسق کے عمل کو شدید دشواری سے دوچار کر دیا ہے۔
شعبہ صحت کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تباہ شدہ عمارتوں سے اٹھنے والی گرد و غبار، خصوصاً سیلیکا کے ذرات پر مشتمل غبار، طویل مدت میں پھیپھڑوں کی دائمی بیماریوں، دمہ اور سیلیکوسس جیسے امراض کا سبب بن سکتا ہے۔
یہ ذرات آسانی سے فضا میں پھیل کر متاثرہ علاقوں کے مکینوں کے نظامِ تنفس میں داخل ہو جاتے ہیں، جبکہ بچے اور بزرگ افراد اس خطرے سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ جنگی ملبہ صرف تعمیراتی کچرا نہیں بلکہ خطرناک مواد، بھاری دھاتوں اور دیرپا آلودہ عناصر کا مجموعہ ہے، جس کی تلفی اور مؤثر انتظام کے لیے جامع منصوبہ بندی، خصوصی آلات اور بھاری اخراجات درکار ہیں۔
ان کے مطابق اگر اصولی اور مؤثر انتظام نہ کیا گیا تو یہ آلودگی زمین اور زیرِ زمین پانی کے ذخائر تک سرایت کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں پورا ماحولیاتی نظام طویل المدتی اثرات کا شکار ہو سکتا ہے۔
اس صورتحال سے تعمیرِ نو کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا اور معمولاتِ زندگی کی بحالی مزید سست پڑ سکتی ہے۔
مزید برآں، متاثرہ علاقوں میں مسلسل گرد و غبار میں سانس لینے سے عمومی سطح پر سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے طبی نظام پر مزید دباؤ پڑے گا۔
اسی لئے ماہرین نے فوری صفائی مہم کے ساتھ ساتھ ماحولیات اور صحتِ عامہ کی نگرانی کے جامع پروگرام شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ کسی دوسرے انسانی و ماحولیاتی بحران کو جنم لینے سے روکا جا سکے۔




