
مالی میں سنی انتہا پسند مسلح گروہوں کی نئی سرگرمیاں اور دارالحکومت تک جانے والے راستوں پر ان کا تسلط، سلامتی کے بحران کے گہرا ہونے اور موجودہ حکمران ڈھانچے کے خلاف عوامی بغاوت برپا کرنے کی کوشش کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
ہمارے ساتھی کی رپورٹ جس میں انھوں نے اس موضوع کا تفصیلی جائزہ لیا ہے:
مالی کی سلامتی کی صورتحال، سنی انتہا پسند مسلح گروہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے باعث ایک تشویش ناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔
رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ گروہ اہم شاہراہوں پر موجودگی اور چیک پوائنٹس قائم کر کے بعض اہم راستوں پر قابض ہو گئے ہیں اور عمومی فضا کو اضطراب اور بے ثباتی سے دوچار کر دیا ہے۔
المیادین نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق، ”نصرت الاسلام والمسلمین” کے نام سے موسوم سنی انتہا پسند گروہ — جس کا تعلق سنی انتہا پسند تنظیم القاعدہ کے نیٹ ورک سے ہے — نے مالی کے دارالحکومت کے اطراف میں چیک پوائنٹس قائم کیے ہیں اور شہریوں سے فوجی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس گروہ نے فرانسیسی زبان میں جاری کیے گئے ایک بیان میں معاشرے کے مختلف طبقات — من جملہ فوجی افراد، سیاسی شخصیات اور مذہبی رہنماؤں — سے اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے ہم آواز ہوں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ حرکات مالی میں حالیہ وسیع اور بے مثال حملوں کے بعد سامنے آئی ہیں؛ ایسے حملے جنھوں نے ملک میں عدم استحکام کو بڑھاوا دیا اور سیاسی ثبات کو کمزور کیا ہے۔
مبصرین کے بقول، یہ اقدامات ملک کے مزید علاقوں میں مسلح گروہوں کے اثر و رسوخ کے پھیلاؤ کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔
ماہرین کے تجزیے کے مطابق، سماجی اور سیاسی بے اطمینانی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش ان گروہوں کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔
اسی دوران، شاہراہوں اور حساس علاقوں میں سنی انتہا پسند گروہوں کی بڑھتی ہوئی مسلح موجودگی نے شہریوں کی سلامتی اور روزمرہ زندگی میں خلل کے بارے میں تشویش کو اور گہرا کر دیا ہے۔
بعض تجزیوں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس صورتحال کا تسلسل مغربی افریقا کے علاقائی رجحانات پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے، اس طور پر کہ مالی میں سنی انتہا پسند مسلح گروہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمی ہمسایہ ممالک میں عدم استحکام کے پھیلاؤ کے امکان کو تقویت بخشتی ہے اور وسیع تر سطح پر سلامتی کے چیلنجوں کو جنم دیتی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اس رجحان کے جاری رہنے سے مالی گہرے امن و امان اور استحکام کے بحران سے دوچار ہو سکتا ہے، اور عدم استحکام سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ حکمتِ عملی پر توجہ کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ اجاگر ہو جاتی ہے۔




