مقالات و مضامین

عالمی یومِ آزادیٔ صحافت؛ اسلامِ علوی میں آزادیٔ اظہار کے مفہوم اور ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری کا ازسرِ نو جائزہ

آج 3 مئی عالمی یومِ آزادیٔ صحافت ہے، جو اس بات پر غور و فکر کا موقع فراہم کرتا ہے کہ موجودہ دنیا میں میڈیا کا مقام کیا ہے اور آزادیٔ اظہار کا حقیقی مفہوم کیا ہونا چاہیے۔

اسلامِ علوی کے نقطۂ نظر سے آزادیٔ اظہار کا مطلب بے لگام خبروں کی اشاعت نہیں، بلکہ حق کی پاسداری اور ذمہ دارانہ آگاہی فراہم کرنا ہے۔

دینی تعلیمات میں خبروں کی اشاعت میں احتیاط اور غلط معلومات سے پرہیز پر خاص زور دیا گیا ہے۔

جیسا کہ سورۂ حجرات کی آیت 6 کی تفسیر میں بیان ہوا ہے کہ کسی خبر کو قبول یا نشر کرنے سے پہلے اس کی تحقیق ضروری ہے تاکہ معاشرہ گمراہ کن معلومات سے محفوظ رہے۔

اسی طرح سورۂ احزاب کی آیت 70 میں "قولِ سدید” یعنی مضبوط، درست اور سچی بات کہنے کی تاکید کی گئی ہے، جو مفسرین کے مطابق اسلامی صحافتی اخلاقیات کی بنیاد ہے۔

تاریخی اسلامی مصادر کے مطابق، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی سیرت حق گوئی اور شفافیت کی روشن مثال ہے۔ آپؑ کا طرزِ حکمرانی اس بات کا عکاس تھا کہ مشکل حالات میں بھی حقیقت کا اظہار اور درست معلومات کی فراہمی بنیادی اصول ہونا چاہیے۔

آج کے دور میں، جب میڈیا عوامی رائے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے، یہ سوال نہایت اہم ہے کہ آزادیٔ صحافت کس حد تک حقیقت کے فروغ کے لئے استعمال ہو رہی ہے۔

ان اصولوں کی طرف رجوع میڈیا کو غلط معلومات کی اشاعت سے نکال کر حقیقی شعور و آگاہی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button