ایران کے طبی مراکز پر وسیع نقصان؛ فوجی حملوں کے دوران 240 حملے اور درجنوں اسپتال تباہ
ایران کے طبی مراکز پر وسیع نقصان؛ فوجی حملوں کے دوران 240 حملے اور درجنوں اسپتال تباہ
مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کے طبی ڈھانچے کا ایک بڑا حصہ حملوں کا نشانہ بنا ہے جس کے نتیجے میں بھاری نقصان ریکارڈ کیا گیا ہے۔
بی بی سی فارسی کی رپورٹ کے مطابق اس عرصہ میں صحت و علاج کے مراکز پر تقریباً 240 حملے درج کئے گئے، جن میں 50 اسپتال اور تقریباً 50 ایمرجنسی مراکز متاثر ہوئے ہیں۔
ایران کے وزیرِ صحت، ڈاکٹر محمد رضا ظفرقندی نے بھی اعلان کیا ہے کہ ان حملوں کی تفصیلات باقاعدہ طور پر دستاویزی شکل میں محفوظ کر لی گئی ہیں اور نقصانات کے اعداد و شمار متعلقہ اداروں کے پاس موجود ہیں۔
ان کے مطابق، فضائی حملوں کے ابتدائی دنوں میں تہران کے چند طبی مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جن کی تباہی کی تصاویر بین الاقوامی میڈیا میں نشر ہوئیں۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اس صورتحال کے باعث بعض علاقوں میں طبی خدمات متاثر ہوئیں، جبکہ اسپتالوں کی بحالی اور ان کی مکمل فعالیت کی بحالی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
بین الاقوامی صحت کے اداروں نے زور دیا ہے کہ طبی مراکز پر حملہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کے خلاف ہے اور اس کی باقاعدہ تحقیقات ہونی چاہیے۔




