افریقہ

مالی کے دارالحکومت باماکو اور دیگر شہروں پر بڑے پیمانے پر مسلح حملہ

ملک مالی میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے درمیان، نامعلوم مسلح افراد نے ہفتہ کے روز دارالحکومت باماکو اور دیگر شہروں پر حملہ کر کے فوجی اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

اطلاعات کے مطابق دارالحکومت کے ایئرپورٹ کے اطراف شدید دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

ہمارے ساتھی رپورٹر نے اس حوالے سے ایک رپورٹ تیار کی ہے، آئیے اسے مل کر دیکھتے ہیں۔

ملک مالی ایک بار پھر تشدد اور عدم استحکام کی نئی لہر کی لپیٹ میں آ گیا ہے، جہاں مسلح حملہ آوروں نے منظم حملوں کے ذریعہ دارالحکومت کے بعض حصوں اور دیگر علاقوں کو نشانہ بنایا۔

اس واقعہ نے اس افریقی ملک کے سیاسی اور سیکیورٹی استحکام کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ حملے ہفتہ 25 اپریل کو باماکو ایئرپورٹ کے قریب اور شہر کے دیگر مقامات پر شدید دھماکوں اور فائرنگ سے شروع ہوئے۔

مقامی عینی شاہدین نے بھاری ہتھیاروں کی آوازیں سننے اور سڑکوں پر سیکیورٹی فورسز کی موجودگی کی اطلاع دی ہے۔

مالی کی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "نامعلوم دہشت گرد مسلح گروہوں” نے دارالحکومت میں کئی فوجی اڈوں اور حساس مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔

فوجی حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لئے کارروائیاں جاری ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق باماکو کا مرکزی ایئرپورٹ بھی حملوں کا ہدف بنا۔

میڈیا رپورٹس میں فوجی ہیڈکوارٹر کے قریب کئی زور دار دھماکوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جو حملوں کی شدت اور وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔

اس رپورٹ کے تیار ہونے تک حملہ آوروں کی شناخت سرکاری طور پر ظاہر نہیں کی گئی اور نہ ہی جانی نقصان کے بارے میں کوئی حتمی اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں۔

بعض حلقوں میں ایک اور ممکنہ فوجی بغاوت کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے، تاہم سرکاری ذرائع نے ابھی تک اس کی تصدیق نہیں کی۔

مالی گزشتہ چند برسوں سے سیکیورٹی بحران، مسلح گروہوں کی سرگرمیوں اور متعدد سیاسی تبدیلیوں کا سامنا کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ملک کے عوام کو مزید عدم تحفظ، غربت اور عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔

بعض علاقائی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومتی اداروں کی کمزوری، اندرونی اختلافات اور سرحدی علاقوں میں شدت پسند گروہوں کی موجودگی ایسے حملوں کے اعادہ کی بنیادی وجوہات ہیں۔

ان کے مطابق سیاسی اصلاحات اور سیکیورٹی ڈھانچے کی مضبوطی کے بغیر مالی میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔

علاقائی مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مالی کے بحران کی سیاسی اور سماجی جڑوں کا علاج نہ کیا گیا تو اس قسم کے حملے پورے مغربی افریقہ کے لیے نئے سیکیورٹی خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button