امریکہ

امریکی انتخابی فضا میں اسلام مخالف بیانیے میں تیزی؛ نفرت انگیز سیاست پر خطرے کی گھنٹی

امریکی انتخابی فضا میں اسلام مخالف بیانیے میں تیزی؛ نفرت انگیز سیاست پر خطرے کی گھنٹی

واشنگٹن: امریکہ میں صدارتی و کانگریسی انتخابات کے قریب آتے ہی سیاسی ماحول میں اسلام مخالف بیانات اور رجحانات میں واضح اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جس نے ماہرین اور حقوقی حلقوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

مبصرین کے مطابق یہ رجحان نہ صرف معاشرتی تقسیم کو گہرا کر رہا ہے بلکہ مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں، کو براہِ راست نشانہ بنانے کا باعث بھی بن رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، بعض قانون سازوں اور سیاسی شخصیات نے انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں کے خلاف سخت اور اشتعال انگیز زبان کا سہارا لیا، جس کا مقصد اپنے ووٹ بینک کو مضبوط بنانا بتایا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتخابی ادوار میں اس نوعیت کے بیانیے کا ابھرنا ایک تسلسل اختیار کر چکا ہے۔

تحقیقی اداروں کی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں امریکی سیاسی حلقوں میں سینکڑوں ایسے بیانات اور سوشل میڈیا پیغامات سامنے آئے ہیں، جن میں مسلمانوں کے خلاف منفی تصورات کو فروغ دیا گیا اور بعض معاملات میں انہیں سلامتی کے خطرات سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی نفرت انگیز فضا مستقبل میں امتیازی سلوک اور ممکنہ تشدد کو جنم دے سکتی ہے۔

دوسری جانب، قانونی و حقوقی اداروں نے اس امر پر زور دیا ہے کہ کسی مخصوص مذہب کو نشانہ بنانے والی قانون سازی امریکی آئین کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے اور اس کے نتیجے میں سنگین سماجی و قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button