5 ذی القعدہ رحلت سید ابن طاووس رحمۃ اللہ علیہ

جمال العارفین رضی الدین ابوالقاسم سید علی بن موسیٰ بن جعفر بن طاووس المعروف بہ سید ابن طاووس رحمۃ اللہ علیہ ساتویں صدی ہجری کے نامور شیعہ عالم، عارف اور فقیہ تھے۔ آپ 15 محرم الحرام سن 589 ہجری کو حلّہ (عراق) کے ایک نامور دینی اور علمی سید خاندان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ماجد سید موسیٰ بن جعفر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ عالم اور راوی حدیث تھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ چھٹی صدی ہجری کے معروف شیعہ عالم، فقیہ و محدث وَرّام بن ابی فِراس حِلّی رحمۃ اللہ علیہ کی دختر نیک اختر تھیں۔
جناب ورّام رحمۃ اللہ علیہ ابتدا میں کئی اہم سرکاری عہدوں پر فائز ہوئے لیکن کچھ ہی دنوں بعد تمام عہدوں سے استعفیٰ دے کر زہد و تقویٰ اور تعلیم و تعلّم میں مصروف ہو گئے۔ وہ سید ابن طاووس رحمۃ اللہ علیہ کے نہ صرف نانا تھے بلکہ استاد اور مربی بھی تھے اور سید ابن طاووس رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق ان کی علمی اور عملی تربیت میں انھوں نے بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ جناب ورّام رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے نواسے کو نصیحت کی تھی کہ ”نورچشم! جس میدان میں بھی قدم رکھنا چاہے وہ میدان علم ہو یا میدان عمل کبھی بھی کم پر راضی نہ ہونا۔” اسی طرح سید ابن طاووس رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنے فرزند کو نصیحت فرمائی تھی کہ ”فقہ کو اس قدر پڑھنا کہ کسی کی تقلید کرنے کی ضرورت نہ پڑے، کیوں کہ جو بھی اس سے کم پر راضی ہوا اس نے شکست قبول کر لی۔”
سید ابن طاووس رحمۃ اللہ علیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں اپنے والد ماجد اور نانا سے حاصل کی۔ بچپن ہی میں آپ کی ذہانت و فطانت ظاہر تھی کہ علم فقہ میں آپ نے جتنا ایک سال میں پڑھا اور سیکھا اتنا دوسرے بچّے کئی سال میں پڑھتے اور سیکھتے تھے۔ صرف ڈھائی سال کی مدت میں آپ نے علم میں کمال حاصل کر لیا اور استاد سے بے نیاز ہو گئے اور فقہ کی دوسری تمام کتابیں خود ہی مطالعہ فرمائیں۔ لیکن یہ نکتہ قابل غور ہے کہ علم فقہ میں کمال حاصل ہونے کے باوجود آپ فتویٰ دینے میں احتیاط فرماتے تھے اور سورہ الحاقہ کی آیت نمبر 44 اور 45 کی تلاوت کرتے ہوئے فرماتے کہ ”جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سلسلہ میں اپنے رسول کے ساتھ بھی سخت رویہ رکھا ہے تو ہمارا کیا ہو گا کہ اگر ہم غلطی سے اس کے کلام اور مرضی کے خلاف کوئی بات کہیں۔”
حلّہ میں چند برس تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ کاظمین تشریف لے گئے اور وہاں وزیر مملکت جناب ناصر بن مہدی کی دختر نیک اختر سے شادی کی۔ اس شادی کے سبب آپ کو بغداد میں رہنے کا موقع ملا اور آپ نے 15 سال بغداد میں قیام فرمایا۔ بغداد میں دوران قیام عباسی حاکم مستنصر نے آپ سے درخواست کی کہ آپ مملکت کے مفتی اعظم بن جائیں، نقابت کا عہدہ قبول کر لیں، دربار میں امور مملکت کے جلسوں میں شرکت کریں، مغول بادشاہ کے پاس سفیر بن کر جائیں اور وزیر اعظم کا منصب قبول کریں۔ ان تمام درخواستوں کو قبول کرنے سے آپ نے مسلسل انکار کیا۔
عباسی حکومت کی جانب سے مسلسل اصرار سے عاجز آکر آپ واپس حلّہ تشریف لے آئے۔ حلّہ میں کچھ عرصہ رہنے کے بعد آپ نجف اشرف تشریف لے گئے جہاں تین برس قیام رہا، پھر کربلا تشریف لائے جہاں کتاب ”فرج المھموم” کی تالیف مکمل کی۔ تین سال کربلا میں قیام کے بعد آپ واپس بغداد آ گئے اور تا حیات بغداد میں ہی قیام رہا۔
یہی وہ زمانہ تھا جب عباسی حکومت کے زوال کا وقت آ چکا تھا اور ہلاکو خان اپنے لشکر کے ساتھ بغداد کو گھیرے ہوئے تھا۔ آخر کار ہلاکو خان نے بغداد پر قبضہ کیا، مستنصر گرفتار ہوا اور عباسی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ اس دوران سید ابن طاووس رحمۃ اللہ علیہ نے یہی کوشش کی کہ عراقی عوام کا کم سے کم جانی اور مالی نقصان ہو اور اس میں آپ کو کامیابی بھی ملی۔ ہلاکو خان نے بغداد میں علماء کو جمع کر کے پوچھا کہ ایک عادل کافر کی حکومت چاہتے ہیں یا ایک مسلمان ظالم کی حکومت چاہتے ہیں۔ سید ابن طاووس رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ایک عادل حاکم کی حکومت ظالم کی حکومت سے بہتر ہے، جیسا کہ امیرالمومنین امام علی علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ ”حکومت کفر کے ساتھ تو چل سکتی ہے لیکن ظلم کے ساتھ نہیں چل سکتی۔”
ہلاکو خان نے آپ سے علویوں کی نقابت کا عہدہ قبول کرنے کی درخواست کی جسے پہلے تو آپ نے انکار کیا لیکن جب عالم و فاضل، حکیم و دانشور، فقیہ و ماہر علم نجوم خواجہ نصیر الدین رحمۃ اللہ علیہ نے سفارش کی تو آپ نے قبول کر لیا۔ آپ کے اس اقدام سے جہاں دشمنوں نے افواہ پھیلائی وہیں بے طرف افراد نے آپ کی دور اندیشی کی تعریف کی۔
سید ابن طاووس رحمۃ اللہ علیہ کی تالیفات و تصنیفات کی طویل فہرست ہے جن میں سے دو کتابیں زیادہ مشہور ہیں: ایک دعاؤں اور زیارتوں کا مجموعہ ”اقبال الاعمال” اور دوسری کتاب ”اللهوف علی قتلی الطفوف” ہے جس میں مدینہ سے امام حسین علیہ السلام کی روانگی سے لے کر اہل حرم کے مدینہ واپسی تک کے حالات بیان ہوئے ہیں۔ ماضی اور حال کے علماء نے کتاب لھوف کو معتبر جانا ہے اور خطباء و ذاکرین کو نصیحت کی کہ وہ اس کتاب سے مصائب بیان کریں۔
آپ 5 ذی القعدہ سن 664 ہجری کو بغداد میں وفات پا گئے اور جنازہ نجف اشرف لے جایا گیا جہاں امیرالمومنین علیہ السلام کے روضہ مبارک میں دفن ہوئے۔ مذکورہ مطالب سے واضح ہے کہ سید ابن طاووس رحمۃ اللہ علیہ ایک عظیم عالم، فقیہ، خبیر و بصیر اور دور اندیش تھے لیکن تقویٰ و پرہیزگاری اور دعا و مناجات کی کثرت کے سبب آپ ایک عارف و زاہد مشہور ہیں۔




