برطانوی ارکان پارلیمنٹ کی اسلام مخالف شخصیت کے داخلے کو روکنے کی درخواست؛ بڑھتی اسلاموفوبیا کے تناظر میں تشویش
برطانوی ارکان پارلیمنٹ کی اسلام مخالف شخصیت کے داخلے کو روکنے کی درخواست؛ بڑھتی اسلاموفوبیا کے تناظر میں تشویش
برطانیہ میں ایک انتہا پسند اسلام مخالف شخصیت کے داخلے کو روکنے کے لئے سیاسی دباؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اس فرد کے اشتعال انگیز بیانات کے ماضی سے متعلق رپورٹس منظرِ عام پر آئیں۔
ایندیپینڈنٹ کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ کے آزاد ارکان نے حکومت سے اس معاملے پر فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اسی طرح 5 پلرز (5Pillars) نامی نیوز پلیٹ فارم نے اس اسلام مخالف فرد کی سابقہ سرگرمیوں سے متعلق دستاویزات شائع کر کے وزارتِ داخلہ کو بھی ارسال کی ہیں۔
ان رپورٹس میں اس شخص کے نفرت انگیز بیانات اور تشدد پر اکسانے کی کوششوں کا ذکر کیا گیا ہے، جس سے معاشرتی امن و امان کے حوالے سے تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
ارکانِ پارلیمنٹ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ قانون کے معیار کو یکساں طور پر نافذ کیا جائے اور اس معاملے میں کسی قسم کی رعایت نہ دی جائے۔
برطانوی حکومت نے ان خدشات کے جواب میں کہا ہے کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہے۔
دوسری جانب بعض میڈیا تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اقلیتوں کے خلاف سخت اور خاص طور پر اسلام مخالف بیانیے میں اضافہ سماجی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
آزادیٔ اظہار اور اس کی حدود پر جاری بحث کے درمیان یہ معاملہ برطانیہ کی موجودہ سیاست کا ایک حساس موضوع بن چکا ہے، جسے عوامی سطح پر بھی گہری توجہ کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔




