21 اپریل؛ یوم وفات شاعر مشرق علامہ اقبال لاہوری

21 اپریل 1938 کو برصغیر کے عظیم شاعر، مفکر اور مصلح علامہ محمد اقبال نے وفات پائی۔ آج ان کا یوم وفات ہمیں نہ صرف ان کی ادبی و فکری خدمات کو یاد دلانے کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ ان کے افکار کو شیعہ عقائد کی روشنی میں سمجھنے اور پرکھنے کی دعوت بھی دیتا ہے۔ علامہ اقبال کی فکر محض شاعری تک محدود نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر اسلامی بیداری، خودی کی تعمیر اور امتِ مسلمہ کے احیاء کا پیغام ہے، جس میں اہلِ بیت علیہم السلام کی محبت اور ان کی تعلیمات کی جھلک نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔
شیعہ مکتبِ فکر میں اہلِ بیت علیہم السلام کی ولایت اور ان کی اطاعت کو دین کا بنیادی رکن سمجھا جاتا ہے، اور اقبال کے کلام میں یہ عقیدہ بارہا مختلف انداز میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ انہوں نے امیر المومنین امام علی علیہ السلام کو "شیرِ خدا” اور "بابِ علم” کے طور پر نہ صرف خراجِ عقیدت پیش کیا بلکہ انہیں کامل انسان اور عملی نمونہ قرار دیا۔ اقبال کے نزدیک امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کی ذات شجاعت، عدالت، علم اور روحانیت کا ایسا مجموعہ ہے جو ہر دور کے انسان کے لئے اسوہ حسنہ ہے۔
اسی طرح واقعہ کربلا اور حضرت امام حسین علیہ السلام کی قربانی کو اقبال نے اسلامی حیات کا محور قرار دیا۔ ان کے اشعار میں امام حسین علیہ السلام کو حریت، حق پسندی اور باطل کے خلاف قیام کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ شیعہ عقیدہ بھی کربلا کو حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن معرکہ سمجھتا ہے، اور اقبال کی فکر اس عقیدے سے گہری ہم آہنگی رکھتی ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر امتِ مسلمہ میں حسینی جذبہ زندہ ہو جائے تو زوال کی تاریکیاں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔
اسی تناظر میں اقبال نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت کو بھی نہایت عقیدت کے ساتھ بیان کیا، اور ان کی ذات کو انسانی کمال، طہارت اور روحانی رفعت کی علامت قرار دیا۔ ان کی نگاہ میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی حیات ہر مسلمان عورت بلکہ پوری انسانیت کے لئے ایک کامل نمونہ ہے:
فاطمہ آن بانوی پاکِ حریمِ کبریا
آن کہ جانِ مصطفیٰ را بود آرام و ضیا
مادرِ آن مرکزِ پرگارِ عشقِ لا زوال
کز فدایش عالمی دارد دلِ پر اضطراب
در حریمِ عصمت او جلوۂ حق آشکار
از مقامش آسمان دارد نشانِ افتخار
شیعہ عقائد میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو عصمت، ولایت اور قربِ الٰہی کا اعلیٰ ترین نمونہ سمجھا جاتا ہے، اور اقبال کی شاعری اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت کو ایک ایسے نور کے طور پر پیش کیا جو رہتی دنیا تک انسانیت کو راہِ ہدایت دکھاتا رہے گا۔
اقبال کا نظریہ "خودی” بھی دراصل انسان کو اس کے حقیقی مقام سے روشناس کرانے کی کوشش ہے، جو شیعہ تعلیمات میں "معرفتِ نفس” کے اصول سے قریب تر ہے۔
آج ان کے یومِ وفات پر ضرورت اس امر کی ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کے سلسلہ میں ان کے اشعار کو پیش کریں۔ اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات، حسینی کردار، اور علوی عدل کو اپنی زندگی میں نافذ کر کے حقیقی شیعہ بننے کی کوشش کریں۔




