تاریخ اسلام

یکم ذیقعدہ ولادت حضرت معصومہ قم سلام اللہ علیہا

معصومۂ مقدّسہ، طاہرۂ مطہّرہ، نقیۂ منزّہہ، زکیۂ مکرّمہ، عالمۂ ربّانیہ، محدّثۂ نورانیہ، فقیہۂ جعفریہ، وارثۂ علویہ، کریمۂ اہلِ بیت علیہم السلام، رحیمۂ امّت، شفیعۂ روزِ جزا، وجیہہ عندَ اللہ، عابدهٔ شب زندہ دار، زاہدۂ دنیا بیزار، رضیۂ و مرضیۂ، مفسّرهٔ اسرارِ ولایت، مبیّنهٔ انوارِ ہدایت، مرکزِ فیضِ ربّانی، منبعِ نورِ عرفانی، ترجمانِ علمِ لدنّی، آئینۂ فضلِ یزدانی، روحِ قم کی طہارت، جانِ حریمِ ولایت، عنوانِ صبر و استقامت، نشانِ حق و صداقت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا ان عظیم ذوات میں شامل ہیں جن کی زندگی صرف زمان و مکان تک محدود نہیں بلکہ ہر دور کے لئے مشعلِ ہدایت، ہر دل کے لئے نورِ ایمان اور ہر معاشرے کے لئے رہنما انقلاب ہیں۔

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا انہی عظیم ہستیوں میں سے ہیں جن کی حیاتِ طیبہ علم، عبادت، صبر، بصیرت، عرفان اور ولایتِ اہلِ بیت علیہم السلام کی مکمل تصویر ہے۔ آپ علیہا السلام کی زندگی ایک مسلسل پیغام، ایک عملی تحریک، اور ایک روحانی انقلاب ہے، جو آج بھی امتِ مسلمہ کے لئے فکر و عمل اور عدل و ولایت کی دعوت دیتی ہے۔

آپ علیہا السلام یکم ذیقعدہ 173 ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئیں، والد ماجد امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اور والدہ ماجدہ حضرت نجمہ خاتون سلام اللہ علیہا کے سایۂ تربیت میں پروان چڑھیں۔ بچپن ہی میں والد ماجد کی اسیری اور شہادت نے آپ علیہا السلام کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑا، مگر یہ آزمائشیں آپ علیہا السلام کے لئے ضعف یا شکست نہیں، بلکہ صبر، استقامت اور ولایتی شعور کی بنیاد ثابت ہوئیں۔

معروف عالم و فقیہ آیۃ اللہ جعفر سبحانی دامت برکاتہ نے فرمایا: "حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی شخصیت اس بات کی روشن دلیل ہے کہ اہلِ بیت علیہم السلام کی اولاد میں خواتین بھی علم و فقاہت اور دینی قیادت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے اپنے علمی و روحانی کردار سے امت کو رہنمائی فراہم کی۔”

آپ علیہا السلام کی تربیت امام رضا علیہ السلام کی نگرانی میں ہوئی، جس نے آپ علیہا السلام کی علمی، اخلاقی اور روحانی بلندی کو مزید تقویت بخشی۔

عباسی خلیفہ مامون کی دعوتِ مرو اور امام رضا علیہ السلام کی جدائی کے باوجود حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا نے اپنے بھائی کی حفاظت، ولایت کے پیغام کی ترسیل اور امت کو بیداری کی دعوت کو جاری رکھا۔ یہ فیصلہ نہ صرف علمی و روحانی بصیرت کا مظہر تھا بلکہ ایک عملی انقلاب کی ابتدا بھی تھا۔

سن 201 ہجری میں آپ علیہا السلام نے خراسان کی طرف سفر کیا۔ ساوہ کے مقام پر دشمنوں نے حملہ کیا اور آپ علیہا السلام کے کئی عزیز شہید ہوگئے۔ یہ سانحہ صرف ذاتی المیہ نہیں بلکہ اہلِ بیت علیہم السلام کے خلاف ظلم و جبر کے عروج کی تصویر تھا، اور حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی استقامت اس ظلم کے مقابلے میں اہلِ بیت علیہم السلام کی رہنمائی اور ثابت قدمی کی علامت تھی۔

آپ علیہا السلام نے قم جانے کا فیصلہ کیا اور فرمایا: "مجھے قم لے چلو، یہاں ہمارے شیعوں کا مرکز ہے۔” یہ ایک انقلابی اعلان تھا، جس نے قم کو علمی، فقہی، عرفانی اور ولایتی مرکز میں تبدیل کردیا۔

آیۃ اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی فرماتے ہیں: "قم کی عظمت اور اس کی علمی بیداری، بڑی حد تک حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی برکت اور قیام کا نتیجہ ہے۔”

قم پہنچنے پر آپ علیہا السلام کا استقبال شہر کے بزرگوں اور عوام نے بے حد محبت سے کیا۔ موسیٰ بن خزرج اشعری رضوان اللہ تعالی علیہ نے آپ علیہا السلام کی میزبانی کا شرف حاصل کیا۔ آپ علیہا السلام نے آخری ایام عبادت، راز و نیاز اور اللہ کی رضا کی طلب میں گزارے۔ بیت النور آج بھی اہلِ بیت علیہم السلام کے چاہنے والوں کے لئے زیارت، سکون اور روحانی قوت کا مرکز ہے۔

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا نے 10 یا 12 ربیع الثانی 201 ہجری کو اس دنیا سے کوچ فرمایا۔ آپ علیہا السلام کی وفات نے اہلِ تشیع کو ماتم میں ڈبو دیا، مگر اس کے ساتھ ہی ایک دائمی مرکز وجود میں آیا۔ مزارِ مقدس قم، جو آج بھی علم، روحانیت اور ولایت کا سرچشمہ ہے۔

امام خمینی قدس سرہ فرماتے ہیں: "ہم جو کچھ بھی رکھتے ہیں، وہ اہلِ بیت علیہم السلام کی عنایات اور ان کے مزاراتِ مقدسہ کی برکتوں کا نتیجہ ہے، اور حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کا وجود قم کی روحانیت اور تشیع کی علمی بیداری سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔”

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زندگی ایک مکمل پیغام دیتی ہے:

  1. علم اور بصیرت: جہالت کے اندھیرے کو علم کی روشنی سے مٹا دیں اور ہر فرد کو فکر و عمل کے لئے بیدار کریں۔
  2. ولایت اور استقامت: ظلم اور باطل کے سامنے ہرگز نہ جھکیں بلکہ صبر اور استقامت کے ساتھ حق کی راہ پر قائم رہیں
  3. عرفان و عبادت: دنیوی آزمائشوں میں بھی دل و دماغ کو اللہ کی معرفت سے منور رکھیں
  4. انقلابِ فکر و عمل: ہر قدم، ہر انتخاب اور ہر عمل کو ایک اجتماعی اور اخلاقی انقلاب کے لئے استعمال کری‌ں۔
  5. خدمت اور شفاعت: دوسروں کی ہدایت، رہنمائی اور فلاح کے لئے اپنی زندگی وقف کریں۔
  6. عدل و مساوات: معاشرت میں انصاف، اخلاق اور مساوات کو بنیاد بنائیں اور ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کریں۔

آپ علیہا السلام کے القاب: طاہرہ، حمیدہ، نقیہ، مرضیہ، محدّثہ، شفیعہ۔ آپ علیہا السلام کی ہمہ جہت شخصیت کے مختلف پہلو ہیں، مگر سب سے جامع لقب "معصومہ” ہے، جو آپ علیہا السلام کی عصمت، پاکیزگی اور روحانی بلندی کا مظہر ہے۔

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی زندگی درس دیتی ہے کہ علم اور معرفت کے ذریعہ جہالت کا مقابلہ کریں، ولایتِ اہلِ بیت علیہم السلام کے سائے میں معاشرتی اور روحانی انقلاب کی تحریک پیدا کریں، صبر و استقامت کے ساتھ ظلم کے آگے ڈٹ جائیں اور ہر عمل اور ہر فکر کو انسانیت، علم اور اخلاق کی خدمت میں لگائیں۔

یہی حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی حقیقی میراث، حقیقی انقلاب اور حقیقی پیغام ہے، ایک ایسا پیغام جو ہر دور کے انسان کو جھنجھوڑتا، بیدار کرتا، اور علم و عرفان کی روشنی سے منور کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button