یومِ وفات میر انیسؔ: علم و ادب، عقیدہ و عرفان کا لازوال چراغ

29 شوال 1291 ہجری کو اردو مرثیہ نگاری کے آفتاب، سخن کے قائد، میر ببر علی انیس رضوان اللہ تعالی علیہ اس دنیا سے رخصت ہوئے، مگر اپنے پیچھے ایسا بے مثال ادبی و فکری سرمایہ چھوڑ گئے جو رہتی دنیا تک انسانیت کی رہنمائی کرتا رہے گا۔ انیسؔ کی شخصیت محض ایک شاعر کی نہیں بلکہ ایک عہد ساز مفکر، مصلح اور ترجمانِ مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کی تھی، جنہوں نے اپنے قلم کو دین، عقیدہ اور بیداریٔ شعور کا ذریعہ بنایا۔
جب انیسؔ واقعہ کربلا کو بیان کرتے ہیں تو وہ صرف ایک تاریخی سانحہ نہیں رہتا بلکہ ایک زندہ و جاوید انقلاب کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ ان کے مراثی میں امام حسین علیہ السلام کی ذات اقدس حق، صبر، استقامت اور حریت کی ابدی علامت بن کر جلوہ گر ہوتی ہے۔ انیسؔ کربلا کو محض ماضی کا قصہ نہیں بلکہ ہر دور کے انسان کے لئے ایک آئینہ بناتے ہیں جس میں وہ اپنے کردار اور اپنے موقف کو پہچان سکتا ہے۔
میر انیسؔ نے اردو زبان کو ایک نئی رفعت عطا کی۔ ان کی زبان سادہ مگر پر تاثیر، ان کے اسلوب میں روانی بھی ہے اور جلال بھی۔ منظر نگاری ایسی کہ صحرا کی تپش، خیموں کی خاموشی، پیاس کی شدت اور تلواروں کی جھنکار سب کچھ آنکھوں کے سامنے مجسم ہو جاتا ہے۔ کردار نگاری میں وہ ہر فرد کو اس کی مکمل نفسیاتی اور روحانی گہرائی کے ساتھ پیش کرتے ہیں، جس سے قاری صرف واقعہ نہیں پڑھتا بلکہ اسے جیتا ہے۔
دینی و عقیدتی پہلو سے انیسؔ کا کلام محبتِ اہلِ بیت علیہم السلام کا آئینہ دار ہے۔ ان کے مراثی دلوں میں عقیدت کی شمع روشن کرتے اور ایمان کی حرارت کو تازہ کرتے ہیں۔ ان کا ہر شعر گویا ایک درس ہے جو انسان کو حق کی پہچان اور باطل سے نفرت سکھاتا ہے۔
انیسؔ کا پیغام محض غم و اندوہ تک محدود نہیں بلکہ ایک انقلابی صدا بھی ہے۔ وہ انسان کو بیدار کرتے ہیں کہ ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کرنا کمزوری نہیں بلکہ جرم ہے۔ کربلا کے تذکرے کے ذریعہ وہ یہ پیغام دیتے ہیں کہ حق کی راہ میں قربانی دینا ہی اصل کامیابی ہے اور یہی وہ سبق ہے جو ہر دور کے انسان کو اپنے حالات میں روشنی فراہم کرتا ہے۔
میر انیسؔ کے مراثی انسانی احساسات کی انتہا کو چھوتے ہیں۔ ماں کی مامتا، باپ کی شفقت، بھائیوں کی محبت اور بچوں کی معصومیت، ہر جذبہ اس شدت کے ساتھ بیان ہوتا ہے کہ دل بے اختیار اشکبار ہو جاتا ہے۔ مگر یہ آنسو محض غم کے نہیں بلکہ شعور اور بیداری کے آنسو ہوتے ہیں۔
میر انیسؔ کی شاعری ایک باطنی پیغام رکھتی ہے۔ وہ انسان کو اپنے نفس کے خلاف جہاد کی دعوت دیتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ اصل کربلا انسان کے اندر برپا ہے۔ امام حسین علیہ السلام کی پیروی دراصل اپنے باطن کو پاکیزہ بنانے اور حق کے راستے پر ثابت قدم رہنے کا نام ہے۔
29 شوال ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ میر انیسؔ جیسے عظیم انسان جسمانی طور پر دنیا سے رخصت ضرور ہوتے ہیں، مگر ان کا فن، ان کا پیغام اور ان کی تاثیر ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ آج بھی ہر مجلس، ہر مرثیہ اور ہر اشک میں انیسؔ کی آواز گونجتی ہے، جو انسان کو حق، صداقت اور انسانیت کے راستے پر چلنے کی دعوت دیتی ہے۔




