فرانسیسی کمپنی لافارژ کی شام میں دہشت گرد گروہوں کی مالی معاونت پر سزا، خفیہ تعاون کے پہلو بے نقاب
فرانسیسی کمپنی لافارژ کی شام میں دہشت گرد گروہوں کی مالی معاونت پر سزا، خفیہ تعاون کے پہلو بے نقاب
پیرس کی ایک عدالت نے سیمنٹ بنانے والی فرانسیسی کمپنی لافارژ کو شام کی جنگ کے دوران دہشت گرد گروہوں کی مالی معاونت کے الزام میں مجرم قرار دیا۔
یہ اقدام کمپنی کے شمالی شام میں اپنے کارخانے کی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لئے کیا گیا تھا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق، اس کمپنی نے 2013 سے 2014 کے دوران داعش اور جبہۃ النصرہ جیسے شدت پسند سنی گروہوں کو لاکھوں یورو ادا کئے۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق عدالت نے کہا کہ ان ادائیگیوں سے ایسے گروہوں کو تقویت ملی جنہوں نے شام اور اس سے باہر مہلک حملے کئے۔
اس کمپنی کے 8 سابق مینیجرز کو بھی دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزام میں سزا سنائی گئی ہے۔
اسی طرح ٹی آر ٹی ورلڈ کی ایک رپورٹ کے مطابق، شام میں لافارژ کی سرگرمیاں محض ایک معاشی تعاون سے کہیں بڑھ کر تھیں۔
اس میڈیا ادارے نے وسیع دستاویزات کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ یہ کمپنی بعض خفیہ سرگرمیوں کے لئے ایک پردے کے طور پر بھی استعمال ہوئی اور مسلح گروہوں تک مالی وسائل منتقل کئے گئے۔
یہ پیش رفت ایک بار پھر اس بات پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے کہ علاقائی بحرانوں میں مغربی کمپنیوں کا کیا کردار رہا ہے اور اس کے عالمی سلامتی پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔




