امام جعفر صادق علیہ السلام کی اپنے شیعوں اور پیروکاروں کو نصیحت
امام جعفر صادق علیہ السلام کی اپنے شیعوں اور پیروکاروں کو نصیحت
از تبرکات سلطان المؤلفین آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد شیرازی رحمۃ اللہ علیہ
امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک روایت نقل ہوئی ہے جس کا مفہوم شیعوں سے خطاب کرتے ہوئے یہ ہے: لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو تاکہ وہ کہیں: "هذَا أدَبُ جَعْفَر، فَرَحِمَ اللهُ جَعْفَر” یعنی یہ جعفر صادق (علیہ السلام) کا ادب ہے (کہ انہوں نے اپنے پیروکاروں کی ایسی تربیت کی ہے)، پس خدا جعفر پر رحم کرے۔
ایک اور روایت میں بھی امام جعفر صادق علیہ السلام شیعوں سے فرماتے ہیں: "كُونُوا لَنَا زِينَاً وَلَا تَكُونُوا عَلَيْنَا شَيْناً” یعنی ہمارے لئے زینت بنو اور ہمارے لئے بدنامی کا سبب نہ بنو۔
امام جعفر صادق علیہ السلام کا یہ فرمان دراصل ایک حقیقت کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ اگر کوئی اولاد بے ادب اور بے تہذیب ہو تو معاشرہ اس کے باپ کو ہی اس کمی کا ذمہ دار سمجھتا ہے۔
عموماً لوگ باپ اور بیٹے کے اچھے یا برے اعمال کو ایک دوسرے سے جوڑ دیتے ہیں، اگرچہ یہ قانونی طور پر درست نہیں، مگر معاشرتی طور پر ایسا ہی ہوتا ہے۔
مثلاً اگر کوئی بیٹا اسلامی اصولوں کے مطابق اچھا تربیت یافتہ ہو تو لوگ اسے دیکھ کر کہتے ہیں: خدا تمہارے باپ پر رحم کرے کہ اس نے ایسی اچھی تربیت کی۔
اسی طرح اگر (خدا نہ کرے) کوئی بیٹا چوری کرے تو اس کا عمل باعث بنتا ہے کہ لوگ اس کے باپ کو حقارت کی نظر سے دیکھیں، اور بیٹے کی یہ حرکت باپ کے لئے معاشرے میں شرمندگی کا سبب بن جاتی ہے۔ اسی طرح امت کی خطاؤں کو بھی اس کے رہنما اور پیشوا کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام اسی نکتہ کی طرف شیعوں کو متوجہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہماری بدنامی اور رسوائی کا سبب نہ بنو؛ کیونکہ اگر کوئی تمہاری توہین کرے تو گویا اس نے ہم اہلِ بیتؑ کی توہین کی ہے۔




