
الٰہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش کے حکام کے اس فیصلے کو رد کر دیا ہے جس میں سنبھل کی ایک مسجد میں نماز ادا کرنے والوں کی تعداد پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ عدالت نے صاف فرمایا کہ امن و امان کے خدشات کی بنیاد پر کسی عبادت گاہ کے اندر مذہبی عمل کو محدود نہیں کیا جا سکتا۔
یہ فیصلہ منظر خان کی درخواست پر سماعت کے دوران آیا، جن کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک میں انہیں اس جگہ نماز ادا کرنے سے روکا گیا جہاں ان کے مطابق ایک مسجد موجود ہے۔ مقامی انتظامیہ نے پہلے صرف بیس نمازیوں کو اجازت دی تھی، وجہ یہ بتائی کہ امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔
جسٹس سدھارتھ نندن اور جسٹس اتل سریدھرن پر مشتمل ڈویژن بنچ نے فرمایا کہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن و امان بھی برقرار رکھے اور شہریوں کو اپنا مذہب آزادی سے ادا کرنے کا حق بھی دے۔
عدالت نے حکام کے اس جواز کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر افسران سمجھتے ہیں کہ وہ امن قائم نہیں رکھ سکتے تو انہیں اپنے عہدے چھوڑنے پر غور کرنا چاہیے۔
ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ درخواست گزار نے ابھی تک مسجد کے وجود یا اس کی صحیح جگہ کا ثبوت پیش نہیں کیا۔ انہیں تصاویر اور زمینی ریکارڈ سمیت مزید دستاویزات داخل کرنے کی مہلت دی گئی ہے۔




