ماتمی انجمنیں اور حسینی شعائر

شامِ غریباں کی عالمی سطح پر عقیدت و احترام سے انعقاد

شامِ غریباں کی عالمی سطح پر عقیدت و احترام سے انعقاد

دسویں محرم کی شب، دنیا بھر میں اہل بیت علیہم السلام کے عاشقوں کے دل امام حسین علیہ‌السلام اور ان کے جانثار ساتھیوں کی مظلومیت کی یاد میں آنسوؤں سے لبریز ہو گئے۔ مقدس شہر کربلا اس عظیم سوگواری کا مرکزی محور بن گیا۔

شامِ غریباں، جو عاشورا کے بعد کی پُردرد رات ہے، آتے ہی پورا اسلامی دنیا ایک مشترکہ غم میں ڈوب گیا۔
یہ رات خاندانِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مظلومیت اور تنہائی کی یاد دلاتی ہے جسے دنیا بھر کے حسینی عزاداروں نے نہایت عقیدت سے منایا۔

مقدس شہر کربلا میں، عاشورا کے اختتام پر لاکھوں زائرین نے امام حسین علیہ‌السلام اور حضرت ابوالفضل العباس علیہ‌السلام کے روضہ اقدس کا رخ کیا۔
بین‌الحرمین میں ہاتھوں میں جلتی شمعیں لیے، عزاداروں نے یہ شب اشک و آہ میں گزاری۔
ان شمعوں کی روشنی اس تاریک شب میں امام حسین علیہ‌السلام کے روشن پیغام کا استعارہ بنی۔

ایران، عراق، لبنان، پاکستان، ہندوستان، بحرین اور دیگر کئی ممالک میں بھی عاشقانِ اہل بیت نے مساجد، امام بارگاہوں اور سڑکوں پر عزاداری کی۔
زیارت عاشورا کی تلاوت، نوحہ‌خوانی، مرثیہ‌خوانی اور مشعل و علم بردار جلوسوں کا انعقاد اس شب کا خاصہ رہا۔

اس غمگین رات میں عزاداروں نے امام حسین علیہ‌السلام کے بچوں کی مظلومیت، اہل حرم کی اسیری، اور حضرت زینب سلام‌اللہ‌علیہا کی تنہائی پر گریہ کیا۔
"لبیک یا حسین” کی صدائیں دنیا کے کونے کونے میں گونجتی رہیں، جو امام حسین علیہ‌السلام کی عدل، ایثار اور آزادی کی یاد کو زندہ رکھتی ہیں۔

شامِ غریباں صرف ایک شبِ ماتم نہیں، بلکہ صبر، استقامت اور حریت کے اُس پیغام کی تجدید ہے جو کربلا کے میدان سے اٹھا اور آج بھی مؤمنوں کے دلوں کو جوڑے رکھے ہوئے ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button