فلسطین کے نام پر ترک حکام کا ڈھونگ جاری

جبکہ ترک حکام بالخصوص رجب طیب اردوغان خود کو فلسطینیوں کے حقوق کے حامی کے طور پر پیش کرتے ہیں لیکن حالیہ انکشافات سے پتہ چلتا ہے کہ ترکی اسرائیلی فوج کو اسٹیل کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے اور اس معاہدے کو فلسطین کے نام پر رجسٹرڈ کیا ہے۔
انسانی مسائل میں یہ دکھاوا اور منافع خوری کی تجارت نہ صرف عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ اس ملک کے موجودہ حکام کی انسانی حقوق اور فلسطینی عوام کی حمایت کے اصولوں سے حقیقی وابستگی کی کمی کو بھی ظاہر کرتی ہے۔
اس سلسلہ میں ہمارے ساتھی رپورٹر کی رپورٹ پر توجہ دیں۔
ترک حکام بالخصوص طیب اردغان نے ایک بار پھر عوامی سطح پر فلسطینی عوام کی حمایت کا بہانہ کرتے ہوئے تمام تر پروپگنڈا کیا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ پردے کے پیچھے حقیقت کچھ اور ہی ہے اور بین الاقوامی مسائل میں اپنے منافع خوری کے کاروبار سے فلسطینیوں کی حمایت کا دعوی کرنے والی یہ حکومت ناقابل قبول انداز میں سامنے آئی ہے۔
ترک صحافی متین جیحان نے انکشاف کیا کہ رجب طیب اردغان کے قیادت میں ترک حکومت اسرائیلی فوج کو فولاد کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے لیکن اس حقیقت کو چھپانے کے لئے اسے فلسطین کے نام سے رجسٹرڈ کیا ہے۔
اس سال فلسطین کو فولاد کی برآمدات میں حیرت انگیز 30.930 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ گذشتہ سال 156000 ڈالر سے بڑھ کر 68 ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
یہ کاروائی نہ صرف علاقائی مسائل سے نمٹنے میں ترک حکام کے جھوٹے دھونگ کو ظاہر کرتی ہے بلکہ ہمیں جمال خاشقجی کہ معاملہ میں ان کے ناقابل قبول اقدامات کی یاد دلاتی ہے۔
اس صورت میں ترک حکام نے مختلف حیلوں بہانوں سے اس سعودی صحافی کے قتل کا فائدہ اٹھایا، جبکہ عملی طور پر انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ پس پردہ بات چیت کو نظر انداز نہیں کیا۔
رجب طیب اردغان کا اس قسم کا متضاد رویہ سیاسی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لئے بحرانوں کے غلط استعمال کو ظاہر کرتا ہے۔
اس صورتحال میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ترکی حکام فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے پرعزم ہیں یا وہ بین الاقوامی میدان میں صرف اپنے مفادات کی تلاش میں ہیں۔
مختلف شعبوں میں اس دکھاوے اور منافع کے حصول کے کاروبار نے ملک کے اندر لوگوں کا اعتماد اور دنیا کی رائے عامہ کو ترک حکام کے تئیں بہت حد تک کم کر دیا ہے اور اس ملک کی ملکی اور خارجہ پالیسیوں میں چیلنجز کو ہوا دی ہے۔



