شیعہ مرجعیت

اسلامی حکومتوں کے سامنے کیے گئے عہد و پیمان کی پابندی فقیہِ عادل کی اجازت پر موقوف ہے:آیت اللہ العظمیٰ شیرازی

حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی (دام ظلہ) کا روزانہ علمی درس و نشست بروز شنبہ اٹھائیس ربیع الثانی 1448 ہجری کو منعقد ہوئی۔

اس نشست میں بھی، گزشتہ نشستوں کی طرح، معظم لہ نے حاضرین کے مختلف فقہی مسائل سے متعلق سوالات کے جواب ارشاد فرمائے۔حضرت آیت اللہ العظمیٰ شیرازی نے ایک فقہی استفتاء کے جواب میں، شرعی احکام میں مالی تکالیف کا مقام واضح کرتے ہوئے، ٹیکس کی ادائیگی کے احکام کے ساتھ ساتھ افراد اور حکومتوں کے سامنے کیے گئے عہد و پیمان کے اعتبار اور ان کی پابندی کے لزوم کو بھی بیان فرمایا۔

معظم لہ نے ٹیکس کے شرعاً واجب نہ ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: "ٹیکس واجباتِ شرعیہ میں سے نہیں ہے، کیونکہ شریعت میں جو چیزیں واجب قرار دی گئی ہیں وہ متعین امور ہیں، جیسے خمس، زکوٰۃ اور رَدِّ مظالم۔ لہٰذا جو امور شریعت کے صریح واجبات کی حدود سے باہر ہیں، ان سے کوئی شرعی تکلیف عائد نہیں ہوتی، اور عائد کیے گئے ٹیکس ادا نہ کرنے میں شرعاً کوئی اشکال نہیں ہے۔”

آپ نے مزید، ان لوگوں کے لیے عہد و پیمان پر عمل کے فقہی حکم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جو حکومتوں کی ملازمت اختیار کرتے ہیں اور معاہدے کی رو سے جنھیں ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے، فرمایا: "آپس میں لوگوں کے درمیان کیے گئے عہد و پیمان میں، آیۂ شریفہ «أَوْفُوا بِالْعُقُودِ» کے مطابق، عہد کا پورا کرنا شرعاً واجب اور لازم ہے۔ لیکن افراد اور حکومتوں کے درمیان عہد و پیمان کے سلسلے میں، اسلامی ممالک میں، ان کا اعتبار اور ان کے پورا کرنے کا لزوم فقیہِ عادل کی اذن و اجازت پر موقوف ہے؛ البتہ غیر اسلامی حکومتوں میں جو عہد و پیمان کیے جائیں وہ معتبر ہیں اور ان پر عمل کرنا لازم ہے۔”

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button