امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے سائے میں اسلاموفوبیا کی نئی لہر

واشنگٹن: کانگریس کے وسط مدتی انتخابات قریب آتے ہی امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم میں شدت آگئی ہے۔ زہران ممدانی کی نیویارک میئرشپ، غزالہ ہاشمی کی ورجینیا میں کامیابی اور عبدالرحمن السید کی مشیگن سے سینیٹ کی امیدواری کے بعد مسلمانوں کا بڑھتا ہوا سیاسی اثر ریپبلکن حلقوں کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔
جے ڈی وینس نے عبدالرحمن السید پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کیا، جبکہ ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے ایئرپورٹس پر نماز کے لیے مختص مقامات ہٹانے اور مسلمانوں کی تعمیراتی سرگرمیوں کو ’’شریعت عدالتوں‘‘ سے جوڑتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا۔ الاباما کے سینیٹر ٹومی ٹبرول نے بھی نسل پرستانہ بیانات دیے۔
پیو ریسرچ کے مطابق، امریکہ میں مسلمانوں کی آبادی صرف 1.6 فیصد ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلاموفوبیا کی اس لہر کو معاشی ناکامیوں اور مہنگائی سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ایک سیاسی چال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔



