یورپ

جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کے ابھار کے ترکی پر تزویراتی و ساختی اثرات

مسلم معاشرے کی سلامتی اور علاقائی توازن کو خطرات

جرمنی کے ریاستی انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کے سیاسی دھارے کی نمایاں کامیابی اور اسلام مخالف گروہوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے نہ صرف لاکھوں مسلمانوں اور ترک نژاد شہریوں کے حقوق اور سلامتی پر گہرے سائے ڈال دیے ہیں، بلکہ خطے کی خارجہ پالیسی، جغرافیائی و سیاسی توازن اور اقتصادی روابط کو بھی نئے چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔

اس موضوع کا جائزہ لینے والی ہمارے ساتھی کی رپورٹ ملاحظہ کیجیے:

جرمنی کے سیاسی ڈھانچے میں حالیہ تبدیلیوں اور قوم پرست انتہا پسند دھاروں کے ووٹ بینک میں اضافے نے مسلمانوں، تارکینِ وطن اور بین الاقوامی تجزیہ کاروں میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔

جرمنی یورپ کی اہم طاقتوں میں شمار ہوتا ہے اور یہاں لاکھوں مسلمان آباد ہیں۔ ایسے میں انتہائی دائیں بازو کے رجحانات کو محض ایک داخلی سیاسی تبدیلی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ اس کے اثرات علاقائی اور بین الاقوامی تعلقات تک پھیل سکتے ہیں۔

انقرہ سے شائع ہونے والے روزنامہ "آیدنلک” کے تجزیے کے مطابق، ریاستی انتخابات میں "آلٹرنیٹو فار جرمنی” (AfD) کی 40 فیصد سے زائد ووٹوں کے ساتھ کامیابی برلن کی سیاسی سمت میں ممکنہ تبدیلی کا ایک اہم اشارہ ہے۔

اخبار کے مطابق جرمنی کی جانب سے روس کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرِ ثانی اور یورپی یونین کی موجودہ پالیسیوں سے فاصلے کا امکان خطے کے سلامتی اور اقتصادی توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔

اسی طرح معروف تجزیہ کار مراد یتکین کے پیش کردہ تجزیے کے مطابق، انتہائی دائیں بازو کی اس کامیابی کا مغربی طاقتوں کو درپیش سفارتی تعطل کے ساتھ ایک ہی وقت میں سامنے آنا اس بات کی علامت ہے کہ مشرق اور مغرب کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرنے والے ممالک اور سیاسی قوتوں کی صورتِ حال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔

مسلم معاشرے اور شہری اداروں کے نقطۂ نظر سے اسلام مخالف اور تارکینِ وطن مخالف مؤقف رکھنے والے گروہوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا سب سے بڑا خطرہ مسلمانوں کے شہری حقوق، مساجد کی سلامتی اور مذہبی اقلیتوں کے باوقار طرزِ زندگی کو لاحق ہے۔

اسلامی عقائد کے خلاف منفی پروپیگنڈے میں اضافے اور تارکینِ وطن کے انضمام سے متعلق قوانین کے مزید سخت ہونے سے مغربی یورپ میں آباد مسلم خاندانوں پر نفسیاتی اور سماجی دباؤ بڑھ سکتا ہے اور پُرامن بقائے باہمی کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔

ان سیاسی تبدیلیوں کے انسانی حقوق اور سماجی اثرات کے علاوہ ان کے اقتصادی اور سلامتی سے متعلق وسیع تر نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ یورپ کی بڑی اقتصادی طاقت اور اہم تجارتی شراکت دار کی حیثیت سے جرمنی میں سیاسی استحکام کمزور ہونے کی صورت میں اقتصادی اصلاحات اور بین الاقوامی تعاون کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔

اسی طرح مغربی یورپ کے دفاعی بیانیے میں تبدیلی خطے کے نئے سلامتی کے ڈھانچے سے متعلق منصوبوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں ترکی جیسے ممالک کو یورپ کے حوالے سے اپنی سلامتی کی ترجیحات، تجارتی روابط اور سفارتی پالیسیوں پر بنیادی نظرِ ثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button