27 ربیع الاول؛ یومِ وفات آیۃ اللہ العظمیٰ سید محسن حکیم رضوان اللہ تعالیٰ علیہ

27 ربیع الاول عالمِ تشیع کے عظیم فقیہ، اصولی اور مرجعِ تقلید، آیۃ اللہ العظمیٰ سید محسن طباطبائی حکیم رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی یاد کا دن ہے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی فقہ و اصول کی تدریس و تحقیق، تربیتِ علماء اور دینی و اجتماعی رہنمائی میں صرف کی۔ 27 ربیع الاول 1390ھ کو آپ نے داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ آپ کے انتقال کے بعد بغداد سے نجف اشرف تک آپ کا تاریخی تشییع دو روز تک جاری رہا اور آپ کو مسجد ہندی کے قریب، اپنے قائم کردہ کتب خانے میں سپردِ خاک کیا گیا۔
آیۃ اللہ العظمیٰ سید محسن حکیم رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی علمی میراث میں مستمسک العروة الوثقى، حقائق الاصول، نہج الفقاہة، دلیل المناسک اور دیگر متعدد فقہی و اصولی آثار نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ بالخصوص مستمسک العروة الوثقى فقہِ امامیہ کے علمی حلقوں میں ایک اہم شرح کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کی مرجعیت ایسے دور میں قائم ہوئی جب عراق اور عالمِ اسلام سیاسی، فکری اور سماجی تبدیلیوں کے ایک حساس مرحلے سے گزر رہے تھے؛ چنانچہ آپ کی شخصیت علمی قیادت کے ساتھ دینی و اجتماعی ذمہ داری کا بھی نمایاں نمونہ بنی۔
اسی حوزوی اور علمی پس منظر میں کربلا کے جلیل القدر فقیہ و عالم آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا سید مہدی حسینی شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا ذکر بھی اہم ہے۔ آپ 1304ھ میں کربلا معلیٰ میں پیدا ہوئے، ابتدائی دینی تعلیم کربلا میں حاصل کی، پھر سامرا، کاظمین اور نجف اشرف کے علمی مراکز سے استفادہ کیا اور تقریباً 20 برس نجف اشرف میں قیام کے بعد کربلا واپس تشریف لائے، جہاں آخر عمر تک علمی و دینی خدمات انجام دیتے رہے۔ 28 شعبان 1380ھ کو آپ کا وصال کربلا معلیٰ میں ہوا۔
آیت اللہ العظمیٰ سید محسن حکیم رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اور آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا مہدی شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے باہمی دینی احترام اور حوزوی تعلق کا ایک نمایاں مظہر آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا مہدی شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی وفات کے موقع پر سامنے آیا۔ جب ان کے انتقال کی خبر عراق میں پھیلی تو مختلف شہروں، بالخصوص نجف اشرف سے علماء و مراجع کربلا معلیٰ پہنچے۔ ان مراجع میں آیۃ اللہ العظمیٰ سید محسن حکیم رضوان اللہ تعالیٰ علیہ پیش پیش تھے اور انہوں نے آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا مہدی شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے عظیم الشان تشییعِ جنازہ میں شرکت کی۔
یہ واقعہ محض ایک جنازے میں شرکت تک محدود نہیں، بلکہ اس عہد کے حوزوی ماحول میں موجود علمی احترام اور دینی اخوت کی ایک قابلِ توجہ مثال ہے۔ نجف اشرف اور کربلا معلیٰ صدیوں سے علومِ اہل بیت علیہم السلام کے اہم مراکز رہے ہیں اور ان دونوں حوزات کے علماء کے درمیان علمی و دینی روابط ہمیشہ اہمیت رکھتے رہے ہیں۔ آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا مہدی شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے انتقال پر نجف کے مراجع و علماء کی کربلا آمد اسی باہمی احترام اور حوزوی اخوت کی ایک عملی تصویر پیش کرتی ہے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ سید محسن حکیم رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی عظمت صرف ان کی فقہی و اصولی تصانیف تک محدود نہیں تھی۔ ان کی مرجعیت ایک ایسے دور میں قائم رہی جس میں عراق کے شیعی معاشرے کو سیاسی دباؤ، فکری کشمکش اور مختلف سماجی چیلنجز کا سامنا تھا۔ ایسے حالات میں آپ نے علمی و دینی مراکز کی تقویت اور دینی شعور کے فروغ کے لئے بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔
27 ربیع الاول ہمیں اس عظیم مرجع تقلید کی علمی زندگی، دینی بصیرت اور اجتماعی ذمہ داریوں کی یاد دلاتا ہے۔ ساتھ ہی آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا مہدی شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے تشییعِ جنازہ میں ان کی شرکت اس حقیقت کی طرف بھی متوجہ کرتی ہے کہ حوزۂ علمیہ کی قوت صرف علمی تصانیف اور تدریسی سرگرمیوں میں نہیں، بلکہ اہلِ علم کے باہمی احترام، دینی اخوت اور ملت کی مشترکہ خدمت کے جذبے میں بھی مضمر ہے۔
آج جب امتِ مسلمہ کو علمی پختگی، اخلاقی بصیرت، دینی ذمہ داری اور باہمی احترام کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، آیۃ اللہ العظمیٰ سید محسن حکیم رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اور آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا مہدی شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ جیسی عظیم علمی شخصیات کی حیات و خدمات ہمارے لئے علم، تقویٰ، بصیرت اور خدمتِ دین کا روشن نمونہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان بزرگوں کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے علمی و اخلاقی نقوش پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔




