افغانستانخبریں

کابل میں ’’شمع ہدایت‘‘ اسکول دھماکہ پر ابہامات اور شدید ردِعمل

کابل کے دشتِ برچی کے مهدیہ ٹاؤن میں واقع نجی تعلیمی مرکز اور اسکول ’’شمع ہدایت‘‘ میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 9 سے 14 سال کی عمر کے 42 بچے زخمی ہوئے، جس کے بعد شدید سیاسی ردِعمل سامنے آیا۔

واقعہ کو کئی دن گزرنے کے باوجود کسی گروہ نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ اس حوالے سے تین متضاد بیانات سامنے آئے ہیں، جن میں موٹر سائیکل سواروں کی جانب سے دستی بم پھینکنے اور جنگی گولے کے سرے (سرگلولہ) کے پھٹنے کی بات شامل ہے۔

افغانستان کے اخبار ’’اطلاعات روز‘‘ کے مطابق، طالبان فورسز نے واقعہ کے بعد کم از کم 8 افراد کو گرفتار کیا، جن میں اسکول کے مدیر، اساتذہ، بعض طلبہ کے والدین اور علاقے کا ایک نمائندہ شامل ہیں۔

بعض مقامی افراد کی گرفتاری کی ایک وجہ گلی میں نصب سیکیورٹی کیمروں کا خراب ہونا بھی بتائی گئی ہے۔

یونیسیف، یوناما اور اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینٹ سمیت بین الاقوامی اداروں نے ہزارہ آبادی والے علاقوں کو دوبارہ نشانہ بنائے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آزادانہ اور مکمل تحقیقات اور بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایمرجنسی (Emergency) طبی مرکز نے بھی متعدد زخمی بچوں کی سرجری کی تصدیق کی ہے، جبکہ طالبان نے اب تک گرفتاریوں کی وجوہات اور تحقیقات کے حتمی نتائج کے بارے میں کوئی واضح وضاحت پیش نہیں کی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button