
بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ سے کوئٹہ کے رہائشی اور نجی کورئیر کمپنی کے دو شیعہ نوجوان اغواء کر لئے گئے۔ دونوں کا تعلق ہزارہ برادری سے ہے اور وہ آپس میں رشتہ دار ہیں۔
واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی، جبکہ اہلِ خانہ اور شہریوں نے حکومت سے فوری بازیابی کے لئے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ واقعہ مستونگ میں حالیہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں پیش آیا ہے۔
واضح رہے کہ مستونگ سے دو شیعہ نوجوانوں کا اغواء ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب بلوچستان، خصوصاً ہزارہ شیعہ برادری، پہلے ہی برسوں سے دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور اغواء جیسے سنگین خطرات سے دوچار ہے۔ ایسے واقعات نہ صرف شہریوں کے تحفظ پر سوال اٹھاتے ہیں بلکہ ریاستی ذمہ داری کو بھی اجاگر کرتے ہیں کہ وہ تمام شہریوں، بالخصوص مسلسل نشانہ بننے والی برادریوں، کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے اور مغویوں کی فوری و محفوظ بازیابی کے لئے مؤثر اقدامات کرے۔




