ماتمی انجمنیں اور حسینی شعائر

لکھنو: آصفی امام باڑہ سے 72 تابوت کا تاریخی جلوس عقیدت و احترام کے ساتھ برآمد

لکھنو: آصفی امام باڑہ سے 72 تابوت کا تاریخی جلوس عقیدت و احترام کے ساتھ برآمد

لکھنو: اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنو میں 10 صفر المظفر 1448ھ کے موقع پر تاریخی حسینیہ آصف الدولہ (بڑا امام باڑہ) سے 72 تابوت کا روایتی جلوس انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ برآمد ہوا۔ جلوس کے دوران "بہتر اے خدا والو، سلام اے کربلا والو” کی پرسوز صداؤں سے فضا سوگوار رہی، جبکہ لکھنو سمیت ریاست کے مختلف اضلاع سے آئے ہزاروں عزاداروں نے بھرپور شرکت کی۔

جلوس سے قبل حسینیہ آصف الدولہ میں مجلسِ عزا منعقد ہوئی، جس سے مولانا سید تقی رضا نے خطاب کیا۔ مجلس کے اختتام پر یکے بعد دیگرے 72 تابوت برآمد کئے گئے، جبکہ نقابت کے فرائض جناب ارم جون پوری نے انجام دیے۔

72 تابوت کا یہ تاریخی جلوس 1986ء میں مرحوم سید شمس الحسن رضوی نے انجمن شبیریہ شیش محل کے زیرِ اہتمام شروع کیا تھا۔ نومبر 1991ء میں ان کے انتقال کے بعد ان کے چھوٹے بھائی مرحوم سید مہدی حسن رضوی نے اس روایت کو تاحیات جاری رکھا۔ ان کے انتقال کے بعد مرحوم سید شمس الحسن رضوی کے فرزند سید شبیہ الحسن (ببلو) انجمن کے اراکین کے تعاون سے اس دینی و عزائی خدمت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

اس جلوس کی نقابت کا آغاز پہلے سال معروف ناظم و شاعر مرحوم سید ثقلین حیدر نے کیا تھا۔ بعد ازاں یہ ذمہ داری معروف ناظم و شاعر مرحوم سید قیصر نواب (قیصر جونپوری) نے طویل عرصے تک نبھائی، جبکہ ان کے بعد مختلف ناظمین یہ ذمہ داری انجام دے رہے ہیں۔

72 تابوت کا یہ جلوس لکھنو کی تاریخی عزاداری کی نمایاں روایات میں شمار ہوتا ہے، جو ہر سال 10 صفر المظفر کو حضرت امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا کی یاد میں نہایت عقیدت، احترام اور مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منعقد کیا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button