خبریںشام

5 صفر؛ حضرت رقیہ بنت الحسین سلام اللہ علیہا کی مظلومانہ شہادت

شام کے کھنڈرات سے بلند ہونے والی درد بھری صدا

ماہِ صفر کی پانچویں تاریخ اہلِ بیتِ عصمت و طہارت علیہم السلام کے چاہنے والوں کے لئے نہایت غم و اندوہ کا دن ہے۔ مشہور روایات کے مطابق، اسی روز حضرت سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی کمسن و مظلوم دختر، حضرت رقیہ بنت الحسین سلام اللہ علیہا نے شام کے ویران کھنڈرات میں اپنے بابا کی جدائی کا غم سہتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ آج بھی تاریخ کے اوراق میں اس معصوم بچی کی "بابا! بابا!” کی سوز بھری پکار گونجتی محسوس ہوتی ہے، جو ہر صاحبِ ایمان کے دل کو غم سے بھر دیتی ہے۔

واقعۂ کربلا صرف ایک تاریخی سانحہ نہیں، بلکہ حق و باطل کے درمیان ابدی معرکے کی روشن علامت ہے۔ اس معرکے میں جہاں حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے باوفا اصحاب نے دینِ اسلام کی بقا کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، وہیں اہلِ بیت علیہم السلام کی خواتین اور معصوم بچوں نے اسیری، بھوک، پیاس، بے وطنی اور ظلم و ستم کی ایسی آزمائشیں برداشت کیں جن کی مثال تاریخِ انسانیت میں کم ہی ملتی ہے۔ انہی مظلوم بچوں میں حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا کا نام نمایاں ہے، جن کی مختصر مگر دردناک زندگی صبر، وفا اور مظلومیت کی لازوال داستان بن گئی۔

روایات کے مطابق حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا کی ولادت مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ کمسنی ہی سے اپنے والدِ گرامی حضرت امام حسین علیہ السلام سے بے حد محبت کرتی تھیں۔ سفرِ کربلا کے دوران آپ ہر لمحہ اپنے بابا کے سایۂ شفقت میں رہیں، لیکن دسویں محرم کے بعد حالات نے یکسر رخ بدل لیا۔ امام حسین علیہ السلام کی مظلومانہ شہادت کے بعد اہلِ بیت علیہم السلام کو قیدی بنا کر کوفہ اور پھر شام لے جایا گیا۔ اس طویل اور صبر آزما سفر میں اس ننھی شہزادی نے ایسے مصائب برداشت کئے جن کا تصور بھی دل کو دہلا دیتا ہے۔

شام کے کھنڈرات میں ایک رات حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا نیند سے بیدار ہوئیں اور اپنے والدِ بزرگوار کو یاد کر کے شدت سے گریہ کرنے لگیں۔ آپ کی آہ و زاری سن کر یزیدی دربار نے امام حسین علیہ السلام کا مقدس سرِ اطہر ایک طشت میں رکھ کر آپ کے سامنے پیش کر دیا۔ حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا نے جب اپنے بابا کا خون میں ڈوبا ہوا سر مبارک دیکھا تو اسے سینے سے لگا کر درد و الم سے لبریز گفتگو کی، بے اختیار گریہ کیا اور اسی غم میں اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔ یوں شام کا ویران زندان تاریخِ مظلومیت کا ایک ایسا باب بن گیا، جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا کی شہادت اس حقیقت کی زندہ گواہی ہے کہ یزیدی ظلم و بربریت کی کوئی حد نہ تھی۔ جن ہاتھوں نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے کو شہید کیا، انہی ہاتھوں نے ایک معصوم بچی کو بھی غم و مصیبت کے بوجھ تلے زندگی سے محروم کر دیا۔ شام کا وہ کھنڈر آج بھی ظلم و جبر کے خلاف ایک خاموش مگر مؤثر احتجاج کی علامت ہے۔

آج دمشق میں حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا کا روضۂ مبارک اہلِ بیت علیہم السلام کے چاہنے والوں کے لئے مرکزِ عقیدت ہے۔ دنیا بھر سے لاکھوں زائرین اس بارگاہِ مقدس میں حاضر ہو کر اپنی عقیدت کا اظہار کرتے، اشکِ عقیدت نچھاور کرتے اور اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجات طلب کرتے ہیں۔ اس مقدس حرم سے منقول کرامات اور روحانی برکات نے مؤمنین کے دلوں میں حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا کی محبت کو مزید راسخ کیا ہے۔

پنجمِ صفر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا کی مظلومیت کو صرف اشک و ماتم تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ امام حسین علیہ السلام کے پیغامِ حق، عدل، صبر، عزت اور ظلم کے خلاف استقامت کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔ جب تک دنیا میں ظلم باقی ہے، شام کے کھنڈرات سے بلند ہونے والی حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا کی درد بھری صدا انسانیت کے ضمیر کو بیدار کرتی رہے گی۔

سلام ہو حضرت رقیہ بنت الحسینؑ پر؛ اس معصوم شہزادی پر جس نے اپنی مختصر زندگی میں صبر و مظلومیت کی ایسی لازوال مثال قائم کی کہ رہتی دنیا تک ہر آنکھ ان کی یاد میں اشک بار اور ہر دل ان کی محبت میں سوگوار رہے گا۔

مآخذ:

  • تقویم الشیعہ، عبدالحسین نیشابوری
  • نفس المهموم، شیخ عباس قمی
  • منتهی الآمال، شیخ عباس قمی
  • بحار الأنوار، علامہ محمد باقر مجلسی

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button