افریقہ

سوڈان میں انسانی المیہ؛ 73 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے، دارفور میں قحط اور نسل کشی کا سنگین بحران

بین الاقوامی اداروں کی تازہ رپورٹوں نے سوڈان میں جاری ایک انسانی بحران کی ہولناک تصویر پیش کی ہے۔

خانہ جنگی نے نہ صرف ملک کی دو تہائی سے زیادہ آبادی کو شدید غربت میں دھکیل دیا ہے بلکہ “الفاشر” سمیت کئی علاقوں میں عام شہری محاصرے، بھوک اور انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔

ہمارے ساتھی نے اپنی رپورٹ میں اس صورتحال کا جائزہ لیا ہے، آئیے دیکھتے ہیں:

سوڈان اس وقت اپنی جدید تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اداروں کی تازہ رپورٹ کے مطابق، اپریل 2023 میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد ملک میں غربت کی شرح غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہے، اور اب تقریباً 73 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔

یہ شرح 2023 میں 45 فیصد اور 2025 کے آخر میں 71 فیصد تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ملک میں معیارِ زندگی تیزی سے گرا ہے، حالانکہ اس سے پہلے حالات بتدریج بہتر ہو رہے تھے۔

اس وقت تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ سوڈانی ایسے ہیں جن کی روزانہ آمدنی 3 ڈالر سے بھی کم ہے۔ شہروں اور دیہات میں روزگار اور آمدنی کے ذرائع تباہ ہونے کے باعث بہت سے خاندان زندہ رہنے کے لیے اپنے اثاثے فروخت کرنے، کھانے کی مقدار کم کرنے، بچوں سے مشقت کرانے اور کم عمر لڑکیوں کی جلد شادی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

معاشی بحران کے ساتھ ساتھ اس جنگ کے انسانی حقوق اور سکیورٹی سے متعلق پہلو بھی انتہائی تشویشناک ہو چکے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی تازہ تفصیلی رپورٹ میں کہا ہے کہ شمالی دارفور کے شہر الفاشر اور اس کے گردونواح میں ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) نے ایسے جرائم کا ارتکاب کیا ہے جو انسانیت کے خلاف جرائم اور نسلی تطہیر کے مترادف ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2024 اور 2025 کے دوران عام شہریوں، خصوصاً “زغاوہ” نسل سے تعلق رکھنے والے افراد، کو منظم حملوں، تشدد، بلاجواز گرفتاریوں، 18 سال سے کم عمر لڑکیوں کے خلاف جنسی تشدد اور اجتماعی قتل کا نشانہ بنایا گیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ الفاشر کے سخت محاصرے نے بڑے پیمانے پر قحط کو جنم دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں جبکہ بھوک اور غذائی کمی کے باعث بچوں کی اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے آخر میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے الفاشر کی صورتحال کو “انسانیت کے ماتھے پر ایک بدنما داغ” قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ عام شہریوں کو بچانے اور ان جرائم کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے فوری اقدامات کرے

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button