یورپ

موسمیاتی تبدیلی یورپ میں ایک مستقل معاشی بحران بن گئی

موسمیاتی تبدیلی یورپ میں ایک مستقل معاشی بحران بن گئی

یورپ میں غیر معمولی اور توقع سے کہیں زیادہ شدید گرمی کی لہر اب صرف ایک وقتی موسمی صورتحال نہیں رہی بلکہ ایک بڑے اور مستقل معاشی خطرے میں بدل چکی ہے۔

اس بارے میں میرے ساتھی کی یہ رپورٹ ملاحظہ کیجیے:

یورپ میں موسم کی شدید تبدیلیوں اور درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے نے اس براعظم کے اہم معاشی شعبوں پر بھاری مالی بوجھ ڈال دیا ہے۔

30 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت پر بڑی صنعتوں میں کام کی رفتار نمایاں طور پر کم ہو جاتی ہے، جبکہ درجہ حرارت 40 ڈگری سے بڑھنے پر تعمیرات جیسے شعبے عملاً کام بند کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ، بڑے دریاؤں میں پانی کی سطح کم ہونے اور ریلوے لائنوں اور شاہراہوں کو نقصان پہنچنے سے سامان اور توانائی کی ترسیل کے اہم راستے بھی متاثر ہوئے ہیں۔

بین الاقوامی بینک ING کے نیوز پلیٹ فارم کی رپورٹ کے مطابق، موجودہ گرمی کی لہریں یورپی منڈیوں کے لیے ایک نیا معاشی خطرہ بن گئی ہیں۔

اس مالیاتی ادارے کے سینئر ماہرین کا کہنا ہے کہ اب درجہ حرارت معاشی صورتحال جانچنے کا ایک اہم پیمانہ بن چکا ہے اور یہ خاموشی سے پیداوار کے پورے نظام کو بدل رہا ہے۔

اس سے ان ممالک کے صنعتی شعبوں پر مزید دباؤ بڑھ رہا ہے جو پہلے ہی توانائی کے مختلف بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

اسی طرح دنیا کی سب سے بڑی کریڈٹ انشورنس کمپنی آلیانز ٹریڈ کی جامع رپورٹ کے مطابق، یہ شدید گرمی اب صرف ایک موسمی واقعہ نہیں رہی بلکہ ایک مکمل اور مستقل معاشی جھٹکا بن چکی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو جرمنی میں 2026 سے 2030 کے درمیان کام کی صلاحیت میں کمی اور توانائی کے استعمال میں اضافے کے باعث معاشی نقصان 131 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جو پورے یورو زون کے معاشی استحکام کو متاثر کر سکتا ہے۔

دوسری جانب جرمن اقتصادی تحقیقی ادارے (IW) کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ فوری مالی نقصان کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے، لیکن اہم صنعتی شعبوں کو پہنچنے والا مستقل نقصان یقینی ہے۔

بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مغرب میں اس موسمی اور صنعتی بحران کے اثرات جلد ہی عالمی توانائی منڈیوں اور سامان کی رسد کے نظام پر بھی پڑیں گے، جن میں پڑوسی ممالک اور مشرق وسطیٰ بھی شامل ہیں، اور اس صورتحال کے پیش نظر معاشی پالیسیوں پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button