خبریںہندوستان

عزادار بہترین امتی ہیں: مولانا سید روح ظفر رضوی

ممبئی: روزِ عاشورا، 26 جون 2026 کو خوجہ شیعہ اثناء عشری جامع مسجد، ممبئی میں نمازِ جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید روح ظفر رضوی کی اقتدا میں ادا کی گئی، جس میں مؤمنین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

نمازِ جمعہ کے خطبہ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید روح ظفر رضوی نے کہا کہ صرف یہ تصور ہی انسان کے دل کو جھنجھوڑ دینے کے لئے کافی ہے کہ آج روزِ عاشورا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہوئے خداوندِ عالم کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ وہ ہماری عزاداری کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور ہمارے اعمال سے حضرت ولیِ عصر امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف راضی و خوشنود ہوں۔

مولانا سید روح ظفر رضوی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بارگاہِ الٰہی کے درمیان منقول روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے امتِ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دس عظیم خصوصیات کی بنا پر دیگر امتوں پر فضیلت عطا فرمائی، جن میں نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج، جہاد، جمعہ، جماعت، قرآنِ کریم، علم اور عاشورا شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی بنا پر عزادارانِ امام حسین علیہ السلام امتِ محمدیؐ کی عظیم خصوصیت اور افضل امت کا مصداق ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسی روایت کے مطابق امام حسین علیہ السلام کے غم میں عزاداری کرنا، اشک بہانا، دوسروں کو رلانا، راہِ عزا میں مال خرچ کرنا اور عزاداروں کو کھانا کھلانا جنت کے حصول، مال میں برکت اور سو شہیدوں کے ثواب کا سبب بنتا ہے۔

مولانا سید روح ظفر رضوی نے امام حسین علیہ السلام کے روزِ عاشورا کے تاریخی خطبہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم پیغامِ عاشورا کو خود بھی سنیں، اس پر عمل کریں اور اسے دوسروں تک پہنچائیں تاکہ حق، عدل اور انسانیت کا یہ پیغام عام ہو۔

انہوں نے امام حسین علیہ السلام کے لشکرِ یزید سے خطاب "میری بات سنو، جلدی نہ کرو” کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج گھروں سے لے کر معاشرے تک بہت سی مشکلات اور اختلافات کی بنیادی وجہ ایک دوسرے کی بات نہ سننا ہے۔ اگر انسان تحمل اور بردباری کے ساتھ سامنے والے کی بات سن لے تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لشکرِ یزید نے بھی امام حسین علیہ السلام کی بات سننے سے گریز کیا، حالانکہ امامؑ انہیں حق کی طرف متوجہ کر رہے تھے۔

مولانا سید روح ظفر رضوی نے قرآنِ کریم کی سورۂ زمر کی آیت "جو لوگ بات کو غور سے سنتے ہیں اور اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے اور یہی صاحبانِ عقل ہیں” اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث کا حوالہ دیا کہ "اللہ اس بندے پر رحمت نازل فرمائے جو ہماری بات سنے، اسے محفوظ رکھے اور اس پر عمل کرے۔” انہوں نے کہا کہ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ حق بات کو توجہ سے سنے، اس پر عمل کرے اور اسے دوسروں تک پہنچائے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button