خبریںہندوستان

امام حسین علیہ السلام نے انسانیت کو خدا سے قریب کیا: مولانا سید اشرف علی الغروی

لکھنؤ، دفترِ نمائندگی آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ العالی، لکھنؤ میں عشرۂ محرم الحرام کی مجالس کا سلسلہ جاری ہے، جن سے آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ کے نمائندہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید اشرف علی الغروی خطاب کر رہے ہیں۔ مجالس کا آغاز مولانا قمر الحسن کی تلاوتِ قرآن کریم اور زیارتِ عاشورا سے کیا جا رہا ہے۔

اپنے خطاب میں مولانا سید اشرف علی الغروی نے سیرتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ پیغمبر اسلامؐ نے کبھی کسی کو زبردستی مسلمان نہیں بنایا اور نہ ہی کسی کو کلمہ پڑھنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کی پہلی جنگ بدر میں شریک 313 مسلمانوں نے اپنے یقین اور عقیدے کی بنیاد پر اسلام قبول کیا تھا، نہ کہ کسی جبر یا دباؤ کے تحت۔

مولانا سید اشرف علی الغروی نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے جناب مالک اشتر کے نام تاریخی خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام نے مسلمان کو "ایمانی بھائی” اور غیر مسلم کو "وجودی بھائی” قرار دیا ہے، جو اسلام کے آفاقی پیغامِ انسانیت اور اخوت کی واضح دلیل ہے۔

انہوں نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام نے انسانیت کو اپنے خالق کے قریب کیا، اسی لئے دنیا بھر کے غیر مسلم مفکرین، دانشوروں اور محققین نے بھی امام عالی مقامؑ کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

مولانا اشرف علی الغروی نے عزاداروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہر فرد کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ آیا عزاداری اسے خداوند عالم سے قریب کر رہی ہے یا نہیں۔ اگر عزاداری کے باوجود انسان خدا سے قریب نہیں ہو رہا تو اسے اپنے اعمال اور طرزِ زندگی پر غور و فکر کرنا چاہیے۔

انہوں نے غدیر کے پیغام پر عمل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انسان جہاں بھی ہو، اسے حقیقی معنوں میں غدیری ہونا چاہیے۔ خواہ وہ افسر ہو، انجینیئر، ڈاکٹر یا تاجر، اس کا کردار ایسا ہو کہ لوگ اس کے بارے میں کہیں کہ یہ غدیری ہے، یہ کسی کا حق نہیں مارے گا، رشوت نہیں لے گا اور ناپ تول میں کمی نہیں کرے گا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button