
محرم الحرام 1448 ہجری کا چاند منگل 16 جون 2026ء بمطابق 29 ذی الحجہ 1447ھ کو نظر آ گیا، جس کے ساتھ ہی برصغیر ہند و پاک میں غمِ حسینؑ کی فضا قائم ہو گئی اور ہر طرف "یا حسینؑ، یا حسینؑ” کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔
چاند کے اعلان کے فوراً بعد ہندوستان اور پاکستان کے شیعہ نشین علاقوں میں عزاخانوں کو سیاہ پوش کر دیا گیا، علم و پرچم نصب کئے گئے اور عزاداروں نے سیاہ لباس زیب تن کر لیا۔ مومنات نے ایامِ عزا کے احترام میں اپنے زیورات اتار دیے اور گھروں سمیت امام بارگاہوں میں مجالسِ عزا کا انعقاد شروع ہو گیا۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق چاند رات کے موقع پر مختلف شہروں میں مجالسِ عزا منعقد ہوئیں جن میں مومنین و مومنات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ علماء و ذاکرین نے واقعۂ کربلا اور فلسفۂ شہادتِ امام حسین علیہ السلام پر روشنی ڈالی، جبکہ عزاداروں نے نوحہ خوانی اور سینہ زنی کے ذریعہ اپنے جذباتِ عقیدت کا اظہار کیا۔
پاکستان کے شہروں کراچی، لاہور، ملتان، کوئٹہ، اسلام آباد اور دیگر علاقوں میں فضا سوگوار ہو گئی۔ مختلف مقامات پر مجالسِ عزا برپا ہوئیں، جلوسِ عزا نکالے گئے اور امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا کی یاد عزاداری ہوئی۔
اسی طرح ہندوستان کے دہلی، ممبئی، حیدرآباد، لکھنو اور دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھی عزاداری کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ امام بارگاہوں اور عزاخانوں کو سیاہ علموں اور عزائی شعار سے آراستہ کیا گیا جبکہ مختلف تنظیموں کی جانب سے عشرۂ محرم کے پروگراموں کا اعلان کیا گیا۔
مرکزِ عزا لکھنو میں چاند رات کی متعدد مجالس منعقد ہوئیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق یکم محرم سے روزانہ اذانِ صبح کے بعد سے رات گئے تک مجالس، نوحہ خوانی، مرثیہ خوانی اور عزاداری کے پروگرام جاری رہیں گے۔
لکھنو کی مرکزی عشرۂ مجالس امام باڑہ جنت مآب، امام باڑہ ناظم صاحب، امام باڑہ غفران مآب، امام باڑہ آغا باقر، امام باڑہ قصرِ جنت، امام باڑہ آغا ہومیو، امام باڑہ افضل محل اور شیعہ کالج میں منعقد ہوں گی، جہاں علماء و ذاکرین خطاب کریں گے۔
محرم الحرام کے آغاز کے ساتھ ہی پورے برصغیر میں غمِ سید الشہداء علیہ السلام کی فضا قائم ہو چکی ہے اور عاشقانِ اہلِ بیتؑ واقعۂ کربلا کی یاد تازہ کرتے ہوئے شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔



