خبریںشیعہ مرجعیت

حاکمیتِ علوی اور عاشورا کے عالمی مشن کی تبیین؛ محرم 1448ھ کے موقع پر آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی کی مبلغین سے تبلیغی ذرائع کی توسیع اور اربعینِ حسینی کو مزید پُرشکوہ بنانے کی اپیل

مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی دام ظلہ نے شہرِ مقدس قم میں خطباء، مبلغین اور طلاب کے سالانہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قیامِ امام حسین علیہ السلام کے فلسفہ کو واضح کیا اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ اور امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے نظامِ حکومت کو اسلامِ حقیقی کے ایک عالمگیر اور انسانیت نواز نمونے کے طور پر پیش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

آپ نے موجودہ دور کے بحرانوں، ناانصافیوں اور انسانی مصائب کا حقیقی حل حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہورِ پُرنور میں قرار دیتے ہوئے دینی تبلیغ کو صبر، حکمت، رواداری اور حسنِ اخلاق کے ساتھ آگے بڑھانے اور اربعینِ حسینی کے عالمی پیغام کو مزید مؤثر انداز میں دنیا تک پہنچانے کی دعوت دی۔

ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق، بروز اتوار 28 ذی الحجہ 1447 ہجری قمری کی شام، قم مقدس میں بیت مرجعِ عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی میں مبلغین، طلاب اور مذہبی خطباء کا ایک عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا۔

یہ اجتماع نئے قمری سال اور محرم الحرام و صفر کے ایامِ عزاء کے استقبال کے موقع پر دینی معارف کے فروغ اور جدید تبلیغی حکمتِ عملیوں کی تبیین کے لئے منعقد کیا گیا تھا۔

شیعہ خبر رساں ایجنسی کے مطابق، آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے اپنے خطاب کے آغاز میں حضرت بقیۃ اللہ الاعظم امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خدمت میں ایامِ عزا کی تعزیت پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ آج دنیا میں پھیلے ہوئے ظلم، ناانصافی، بحران اور بے چینی کا حقیقی خاتمہ صرف امامِ عصر عجل اللہ فرجہ الشریف کے مبارک ظہور اور آپ کی عالمگیر حکومتِ عدل کے قیام سے ممکن ہے۔

آپ نے بعض مادی اور نادرست تاریخی تجزیات کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کا قیام ہرگز اقتدار کے حصول یا ظاہری حکومت کے قیام کے لئے نہیں تھا، بلکہ آپ کا بنیادی ہدف راہِ خدا میں شہادت اور دینِ الٰہی کا احیاء تھا۔ امام حسین علیہ السلام آغاز ہی سے اپنے مقدرِ شہادت سے آگاہ تھے اور سفرِ کربلا کے مختلف مراحل میں بارہا اپنے اصحاب و اہلِ بیتؑ کو اس حقیقت سے مطلع فرماتے رہے۔ تاہم آپ کی عظیم تحریک اُن تمام باطل حکومتوں کے خلاف ایک دائمی احتجاج بھی تھی جو اسلام کے نام پر ظلم و جبر کا ارتکاب کر رہی تھیں۔

آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے ظالم حکمرانوں اور حکومتِ علوی کے درمیان تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ بنی امیہ، بنی مروان اور بنی عباس کے حکمرانوں نے اسلام کے نام پر بے شمار مظالم ڈھائے اور ہزاروں بے گناہوں کا خون بہایا، جس سے تاریخ کے صفحات سیاہ ہو گئے۔

اس کے برعکس رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کی حکومت، جو وسیع علاقوں پر قائم تھی، عدل، انصاف، رواداری اور انسانی کرامت کی روشن مثال تھی۔

معظم لہ نے فرمایا: امیرالمؤمنین علیہ السلام اقتدار و اختیار کے باوجود اپنے مخالفین اور ناقدین کے ساتھ انتقامی رویہ اختیار نہیں کرتے تھے۔ امام حسین علیہ السلام بھی اپنے جدِ امجد اور والدِ بزرگوار کی اسی سیرتِ مبارکہ کو زندہ کرنے اور معاشرے میں عدل و انصاف پر مبنی اسی الٰہی نظام کو دوبارہ متعارف کرانے کے لئے میدانِ کربلا میں جلوہ گر ہوئے۔ آج اسی انسانی، اخلاقی اور عادلانہ نمونے کے باعث دنیا بھر کے اہلِ فکر، دانشور اور حق کے متلاشی افراد مکتبِ تشیع کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔

آخر میں آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے دینی مبلغین کی کامیابی کے لئے دو بنیادی قرآنی اصولوں، یعنی مشکلات و مصائب میں صبر اور دوسروں کی خطاؤں سے درگزر و رواداری، کو ناگزیر قرار دیا۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اگرچہ رحمت و مہربانی کا سرچشمہ ہے، لیکن عدل و حساب کے تقاضوں میں نہایت سخت گیر بھی ہے۔

معظم لہ نے تمام شیعیانِ اہلِ بیت علیہم السلام اور عزادارانِ حسینی سے اپیل کی کہ وہ تمام ممکنہ وسائل اور جدید ذرائعِ ابلاغ کو بروئے کار لاتے ہوئے اس سال اربعینِ حسینی کو پہلے سے زیادہ منظم، پُرشکوہ اور مؤثر انداز میں منعقد کریں، کیونکہ اربعین کا عظیم الشان اجتماع مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کی قوت، وحدت اور عالمگیر پیغامِ حسینی کی حیاتِ جاوداں کا ایک درخشاں مظہر ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button