تاریخ اسلام

24 ذی الحجہ؛ آیتِ تطہیر اور حدیثِ کساء کی روشنی میں اہل بیت کی عصمت کے اثبات کا دن

چوبیس ذی الحجہ کو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی جس نے اہل بیت علیہم السلام کی طہارت اور عصمت کا واضح اعلان فرمایا۔

آیتِ تطہیر نے واقعۂ حدیثِ کساء کے ساتھ مل کر پنج تن آلِ عبا کے خاص مقام کو نظامِ وحی اور ہدایت میں ہمیشہ کے لیے ثابت کر دیا۔

اس سلسلے میں ہمارے نمائندے کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں:

آیتِ تطہیر، جو سورۂ احزاب کی آیت 33 میں وارد ہوئی ہے، اہل بیت علیہم السلام کے مخصوص مقام و منزلت کے اثبات کے لیے قرآنِ کریم کی اہم ترین آیات میں شمار ہوتی ہے۔

خداوندِ متعال اس آیت میں ارشاد فرماتا ہے:
«إِنَّما يُريدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا»
"بے شک اللہ یہی چاہتا ہے کہ اے اہل بیت! تم سے ہر قسم کی پلیدی کو دور کر دے اور تمہیں کامل پاکیزگی کے ساتھ پاک و پاکیزہ بنا دے۔”

اس آیت کے اس حصے کی شانِ نزول، جو چوبیس ذی الحجہ کے دن واقع ہوئی، شیعہ اور سنی مفسرین کی بڑی تعداد کے مطابق پنج تن آلِ عبا یعنی رسولِ خدا ، حضرت علی، حضرت فاطمہ زہرا امام حسن اور امام حسین علیہم صلوات و سلام کے بارے میں ہے۔

صحیح مسلم، جامع ترمذی، مسند احمد بن حنبل اور شیعہ مصادر جیسے الکافی اور تفسیر عیاشی کی روایات کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے امّ سلمہ کے گھر میں ایک یمنی چادر اپنے اوپر اوڑھی اور ان پانچ مقدس ہستیوں کو اس کے نیچے جمع فرمایا۔
پھر بارگاہِ الٰہی میں دعا کرتے ہوئے فرمایا:
«اللَّهُمَّ هٰؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي، فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ، وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا»

"اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں، پس ان سے ہر قسم کی پلیدی کو دور فرما اور انہیں کامل پاکیزگی عطا فرما۔”

امّ سلمہ نے جب اس مقدس جماعت میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی تو رسول اللہ نے فرمایا:
"تم خیر پر ہو، لیکن یہ آیت تمہارے بارے میں نازل نہیں ہوئی۔”

شیخ مفیدؒ نے الارشاد میں اور جلال الدین سیوطی نے الدر المنثور میں نقل کیا ہے کہ یہ آیت اہل بیت کو ہر قسم کے گناہ اور آلودگی سے منزہ قرار دیتی ہے اور ان کی عصمت پر روشن دلیل ہے۔

اہل سنت کی معروف تفاسیر جیسے تفسیر کشاف زمخشری، الدر المنثور سیوطی اور تفسیر کبیر فخر رازی میں بھی واضح طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ آیتِ تطہیر اہلِ کساء کے حق میں نازل ہوئی ہے۔

فخر رازی لکھتے ہیں:
"مفسرین کے اجماع کے مطابق یہ آیت صرف پنج تن آلِ عبا پر دلالت کرتی ہے اور ازواجِ رسول اس کے مصداق نہیں ہیں۔”

چوبیس ذی الحجہ کو آیتِ تطہیر کا نزول اہل بیت علیہم السلام کی عصمت پر ایک قرآنی اور تاریخی سند ہے؛ ایسی حقیقت جو حدیثِ کساء میں نمایاں ہوئی اور قرآنِ مجید میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دی گئی۔

اسی طرح روایات میں حدیثِ کساء کی تلاوت کے بے شمار فضائل بیان ہوئے ہیں۔

اس کے پڑھنے سے رحمتِ الٰہی نازل ہوتی ہے، دعائیں قبول ہوتی ہیں، غم و اندوہ دور ہوتے ہیں، بلائیں ٹلتی ہیں اور زندگی میں برکت پیدا ہوتی ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے:
"جب کسی مجلس میں حدیثِ کساء پڑھی جاتی ہے تو فرشتے وہاں حاضر ہوتے ہیں، رحمتِ خدا نازل ہوتی ہے اور لوگوں کی حاجتیں پوری کی جاتی ہیں۔”

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button