ثقافت اور فن

الغدیر؛ علامہ امینی کا وہ ماندگار شاہکار جس نے ایک مسیحی مفکر کو "امام علی‌ علیہ السلام انسانی عدالت کی آواز" کے عنوان سے 30 جلدوں پر مشتمل کتاب لکھنے پر آمادہ کر دیا

کتاب "الغدیر” صرف ایک تاریخی یا اعتقادی تصنیف نہیں، بلکہ واقعۂ غدیر کی حقانیت اور امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے عظیم مقام کے دفاع میں ایک بے مثال، مستند اور تحقیقی شاہکار ہے۔

یہ ایسی اثر انگیز کتاب ہے جس کے اثرات عالمِ اسلام کی حدود سے آگے بڑھ گئے اور ایک مسیحی دانشور کو بھی امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی عدالت، شخصیت اور افکار کے بارے میں ایک عظیم علمی مجموعہ تحریر کرنے پر آمادہ کر دیا۔

ہمارے ساتھی نے اپنی رپورٹ میں اس دلچسپ واقعے کو بیان کیا ہے، ملاحظہ فرمائیے:

عالمِ اسلام کی معاصر تاریخ میں بہت کم ایسی کتابیں ملتی ہیں جو وسعتِ منابع، استدلال کی مضبوطی اور فکری اثر انگیزی کے اعتبار سے "الغدیر” کا مقابلہ کر سکیں۔

یہ عظیم علمی شاہکار مرحوم علامہ عبدالحسین امینی رحمۃ اللہ علیہ کی کئی دہائیوں پر محیط علمی محنت کا نتیجہ ہے۔ اس کتاب میں اہلِ سنت کی سینکڑوں معتبر کتب سے استناد کرتے ہوئے واقعۂ غدیر خم اور امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے مقام و منزلت کا تحقیقی اور دستاویزی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

کتاب "الغدیر” کی اہمیت صرف شیعہ علمی حلقوں تک محدود نہ رہی بلکہ اس نے غیر مسلم محققین اور دانشوروں کی بھی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔

اس کی ایک نمایاں مثال لبنانی مسیحی ادیب اور مفکر جارج جرداق ہیں، جنہوں نے اس کتاب سے آشنائی کے بعد اپنی تحقیقی زندگی کا ایک نیا رخ اختیار کیا۔

مشہور روایات کے مطابق علامہ عبدالحسین امینی رحمۃ اللہ علیہ نے "الغدیر” کی چند جلدیں جارج جرداق کے پاس بھیجیں اور ان سے درخواست کی کہ وہ ایک شیعہ یا سنی کی حیثیت سے نہیں، بلکہ ایک قانون دان اور عدالت کے علمبردار کے طور پر ان میں پیش کردہ دلائل اور دستاویزات کا مطالعہ کریں۔

اس کتاب کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس کے بیشتر دلائل اور شواہد اہلِ سنت کے معتبر مصادر سے جمع کیے گئے تھے اور مصنف نے تاریخی دستاویزات کی بنیاد پر حقیقت کو اہلِ تحقیق کے فیصلے پر چھوڑ دیا تھا۔

جارج جرداق نے اس مجموعہ کا گہرائی سے مطالعہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسلامی تاریخ میں امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام سے زیادہ مظلوم شخصیت انہیں نظر نہیں آتی۔

یہی احساس انہیں اس بات پر آمادہ کر گیا کہ وہ اپنی مشہور تصنیف "امام علی علیہ السلام انسانی عدالت کی آواز” تحریر کریں۔

یہ عظیم علمی مجموعہ تیس جلدوں میں شائع ہوا اور امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت، عدالت، افکار اور سیرت کے بارے میں لکھی جانے والی نمایاں ترین کتابوں میں شمار ہونے لگا۔

یہ واقعہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ مضبوط استدلال، علمی دیانت اور اخلاص پر مبنی تحقیق مذہبی اور فکری سرحدوں سے بالاتر ہو کر بھی اثر ڈال سکتی ہے اور غدیر کے پیغام کو دنیا بھر کے حق کے متلاشی دلوں تک پہنچا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button