تاریخ اسلام

ذی الحجہ؛ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو فدک عطا کیے جانے کا واقعه

آج چودہ ذی الحجہ ہے، وہ دن جب اللہ تعالیٰ کے خاص لطف و کرم کا ظہور سرزمینِ فدک کو حضرت صدیقۂ طاہرہ، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے سپرد کئے جانے کی صورت میں ہوا۔

جغرافیائی اعتبار سے فدک محض ایک نخلستان نہ تھا، بلکہ مستند شیعہ متون کے مطابق ایک تمدنی و ساختیاتی نظام کی حیثیت رکھتا تھا۔ جب آیتِ کریمہ "وَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ” نازل ہوئی، یعنی: "اور اپنے قرابت داروں کو ان کا حق عطا کرو”، تو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حکمِ الٰہی کی تعمیل میں فدک کو اپنی دخترِ گرامی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے حوالے فرمایا، تاکہ یہ نظامِ امامت کی مادی پشت پناہی اور غدیر کے پیغام کے عملی نفاذ کا ذریعہ بنے۔

لیکن سقیفہ کے انحرافی دھارے نے اس اسٹریٹجک منصوبے کو بخوبی سمجھ لیا تھا، چنانچہ اس نے منظم پروپیگنڈے کے ذریعہ بہت جلد اس الٰہی ملکیت کو غصب کر لیا۔

سقیفہ کے منصوبہ ساز جانتے تھے کہ اگر امیرالمؤمنین علیہ السلام کا معنوی نفوذ فدک کی اقتصادی طاقت کے ساتھ مل جائے تو معاشرے کی دنیا پرستی بے اثر ہو جائے گی۔

اسی لئے انہوں نے ولایت کی اقتصادی شہ رگ کو کاٹ کر دین کو سیاست سے جدا کرنے کے منصوبے کا آغاز کیا؛ کیونکہ جب لوگ اپنی روزی خلیفہ کے ہاتھ سے حاصل کریں گے تو دین بھی اسی کی زبان سے سنیں گے۔

کربلا میں وارثِ غدیر کے قتل کے لئے تلواریں برہنہ ہونے سے نصف صدی پہلے، امامت کو مسلط کردہ فقر و تنگ دستی کے ذریعہ گوشہ نشین کر دیا گیا تھا، تاکہ برسوں بعد اہلِ کوفہ کو اموی درہم و دینار کے ذریعے خریدا جا سکے۔

اس طرح سن 61 ہجری کے خونچکاں سانحۂ کربلا کی جڑیں فدک کے غصب سے پیدا ہونے والے اسی تمدنی انحراف میں پیوست تھیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button