خشیت اور شجاعت کے لئے علم لازم ہے: مولانا مصطفی علی خان

لکھنو۔ ہندوستان کے معروف بزرگ عالم دین حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا مجتبیٰ علی خان ادیب الہندی طاب ثراہ کی چھبیسویں برسی پر کالا امام باڑہ پیر بخارہ چوک میں مجلس ترحیم منعقد ہوئی۔ جسکا آغاز مرحوم کے حفید زیدان علی خان نے تلاوت قرآن کریم سے کیا۔ جناب نایاب و جناب شکیل نے سوز خوانی کے فرائض انجام دیے، نظامت کے فرائض جناب اطہر کاظمی نے انجام دیا اور مولانا مصطفی علی خان نے مجلس عزا سے خطاب کیا۔
قرآنی آیت "اللہ سے صرف علماء ڈرتے ہیں۔” کو سرنامہ کلام قرار دیتے ہوئے مولانا مصطفی علی خان نے کہا: خشیت اور شجاعت دونوں کے لئے علم ضروری ہے۔ بغیر علم و معرفت کے نہ خشیت ممکن ہے اور نہ ہی شجاعت کا امکان ہے۔
انہوں نے مزید کہا: امیر المومنین امام علی علیہ السلام کی شجاعت کا پورا عرب کلمہ پڑھتا تھا اور آج بھی نام "علی” شجاعت کا مترادف سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یہی امیر المومنین علیہ السلام جب وضو کرتے تو خشیت الہی سے ان کا بدن کانپتا تھا۔ جس سے واضح ہوا کہ خشیت اور شجاعت دونوں کے لئے علم ضروری ہے۔
مولانا مصطفی علی خان نے قرآن و حدیث کی روشنی میں نا امیدی کے اسباب اور اس کا علاج بتایا، نیز قرآن کریم کی روشنی میں دنیوی زندگی کے مراحل پر سیر حاصل گفتگو کی۔
مجلس عزا میں مولانا افضال حسین، مولانا سید علی زہاد، مولانا سید رضا عباس نقوی، مولانا سید حسن متقی میثم زیدی، مولانا علی ہاشم عابدی، پروفیسر سید محمد کامل رضوی، سینیئر صحافی جناب سید رضوان مصطفی کے علاوہ کثیر تعداد میں مومنین نے شرکت کی۔




