افغانستان اور پاکستان کی سرحدی کشیدگی کے سائے میں افغان بے گھر خاندانوں کی واپسی سے خوف، غیر یقینی صورتحال برقرار
افغانستان اور پاکستان کی سرحدی کشیدگی کے سائے میں افغان بے گھر خاندانوں کی واپسی سے خوف، غیر یقینی صورتحال برقرار
افغانستان اور پاکستان کے درمیان جاری سرحدی کشیدگی اور جھڑپوں نے ہزاروں افغان خاندانوں کو بے گھری، نقل مکانی اور دوبارہ لڑائی شروع ہونے کے خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔
بہت سے ایسے خاندان، جنہوں نے سرحدی علاقوں میں اپنے گھر اور روزگار کھو دیے ہیں، اب بھی اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے سے خوفزدہ ہیں اور ایک غیر یقینی مستقبل کا سامنا کر رہے ہیں۔
ریڈیو فردا کی رپورٹ کے مطابق، مشرقی افغانستان خصوصاً صوبہ کنڑ میں بڑی تعداد میں بے گھر افراد خیموں اور نہایت دشوار معاشی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ فضائی حملوں اور دونوں جانب سے ہونے والی جھڑپوں کے باعث گھروں کی تباہی، تعلیمی مراکز کی بندش اور خاندانوں کی طبی سہولیات سے محرومی جیسے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ ان درگیریوں کے نتیجے میں افغانستان میں تقریباً ایک لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ بعض خاندان اپنے علاقوں کو واپس لوٹ گئے ہیں، تاہم بڑی تعداد اب بھی دوبارہ جھڑپوں کے خوف سے واپس جانے سے قاصر ہے۔
متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ پائیدار امن و امان کا فقدان ہی ان کی معمول کی زندگی دوبارہ شروع کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔




