خبریں

پاپ لیون چهاردہم نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی مذمت کی، کہا خون آلود ہاتھوں والے رہنماؤں کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں

پاپ لیون چهاردہم نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی مذمت کی، کہا خون آلود ہاتھوں والے رہنماؤں کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں

پاپ لیون چهاردہم نے "اتوارِ نخل” کے موقع پر سینٹ پیٹر اسکوائر میں اپنے خطاب کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگوں کی سخت مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اُن رہنماؤں کی دعائیں قبول نہیں کرتا جو جنگیں شروع کرتے ہیں اور جن کے ہاتھ انسانوں کے خون سے آلودہ ہوتے ہیں۔

انہوں نے مزید زور دیا کہ کوئی بھی شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نام کو تشدد اور جارحیت کے جواز کے طور پر استعمال نہیں کر سکتا، کیونکہ یہ عمل دینی اور انسانی تعلیمات کے خلاف ہے۔

پاپ نے فوری جنگ بندی اور فضائی حملوں کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا تاکہ بے گناہ شہریوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔

بی بی سی فارسی اور اے پی نیوز جیسے ذرائع کے مطابق، پاپ نے بعض حکام کی جانب سے مذہبی زبان استعمال کر کے فوجی کارروائیوں کو جائز قرار دینے پر تنقید کی اور اسے غلط قرار دیا۔

قابلِ ذکر ہے کہ اسلامی تعلیمات میں بھی امن و امان کے قیام اور انسانی جان کی حرمت پر خاص زور دیا گیا ہے۔

اہلِ بیت علیہم السلام کی روایات میں بھی ظلم سے بچنے، عدل و انصاف قائم رکھنے اور جنگ سے متاثرہ افراد کی حمایت کی تاکید کی گئی ہے۔

پاپ کا یہ پیغام بھی انہی دینی اصولوں کے مطابق جنگ کے خاتمے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button